میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 192 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 192

180 سے بات نہ کرنے میں ہی بچاؤ کی صورت سمجھتی ہے۔میں نے حضرت مرزا صاحب کی بہت سی کتب کا مطالعہ کیا ہے۔ایسے برجستہ دلائل ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ مرزا صاحب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے گھر میں بیٹھ کر چند سال تعلیم حاصل کی اور ساری دنیا کے مذاہب کے مقابلہ میں کھڑے ہو کر للکار رہے ہیں کہ آؤ علمی مقابلہ کردیا روحانی مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ خدا تعالی کس کی مدد کے لئے کھڑا ہے۔حالانکہ آپ نے دنیوی سٹیمیں دیکھی ہی نہ تھیں۔گھر میں بیٹھ کر اسلامی اصول کی فلاسفی لکھی اور اشتہار دیدیا کہ ہمارے خدا نے فرما دیا ہے کہ ہمارا مضمون سب مضامین پر غالب رہے گا اور بعد میں سب مذاہب کے مضامین پر واقعی غالب رہا۔اگر یہ حیرانی نہیں ہے تو کیا ہے۔میں نے کہا پادری صاحب! حیرانگی والی تو کوئی بات نہیں۔پہلا مسیح چھوٹی سی بستی ناصرہ میں پیدا ہو کر کھڑا ہو گیا اور یہ دوسرا مسیح ایک ذرا بڑے گاؤں میں کھڑا ہو گیا۔پہلے مسیح نے حکیمانہ معجزے دکھا کر خدا تعالی کی ہستی کا ثبوت دیا اور انہوں نے عالمانہ معجزے دکھا کر خدا تعالیٰ کو الحی القیوم ظاہر کر دیا۔اس طرح دونوں خدا تعالٰی کے مقرب ثابت ہو گئے۔غرضیکہ تین ماہ تک حافظ صاحب سے ہر اتوار کو تھوڑی بہت دوستانہ گفتگو ہوتی رہی۔تین ماہ کے بعد جناب ناظر صاحب دعوة التبلیغ چودہری فتح محمد صاحب سیال کی خدمت میں سب بچوں سمیت مشن میں استعفیٰ دینے کے بعد اپنے آپ کو قادیان میں پیش کر دیا۔اس طرح ان سب نے احمدیت قبول کر لی کچھ عرصہ قادیان رہے پھر اپنے وطن سرگودھا کی طرف تشریف لے گئے۔پہلے تو وہ مجھے بھی یہ مشورہ دیتے تھے کہ آپ کو چار صدہا ہوار کے قریب رقم آجایا کرے گی۔ہم اندر سے احمدی رہتے ہیں اور ظاہری عیسائی پادری رہیں گے اس طرح گزارہ بھی معقول ہو تا رہے گا۔اس کا صرف میں نے یہی جواب دیا کہ اگر پہلی تنخواہ آنے سے قبل ہی میری جان نکل جائے تو ایمان