میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 193
181 بھی گیا اور جان بھی گئی اور اس طرح دنیا بھی گئی۔اس طرح میں نے کیا کمائی کی۔اس بات نے حافظ صاحب اور انکی اہلیہ پر جادو کا اثر کر دکھایا ور اس وقت سے ہی بیوی نے خاوند کو راضی کرنے کی یہ کوشش شروع کر دی کہ ہم سوکھی روٹی نمک مرچ سے کھالیں گے۔اب توبہ کر لو۔آخر خداتعالی نے انہیں ہدایت سے نوازا۔الحمد لله ہیڈ کوارٹر کاٹھ گڑھ میں تھانیدار اور ڈیٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سے تبادلہ خیالات انبالہ سے کاٹھ گڑھ ضلع ہوشیار پور میں ہیڈ کوارٹر بنا کر تبلیغ کرنے کے لئے مجھے مرکزی حکم ملا۔میں اپنی اہلیہ سمیت رو پڑ کے راستے کاٹھ گڑھ پہنچ گیا۔جماعت کے احباب نے بیت کے ساتھ ایک کمرہ رہائش کے لئے دے دیا۔میں نے اس حلقہ میں چھ ماہ تک کام کیا۔ایک دن ایک تھانیدار صاحب ملے اور کہنے لگے مولوی صاحب آپ جب بھی آیا کریں تو تھانے میں اگر ہم سے بھی ضرور ملا کریں میں نے کاٹھ گڑھ میں آریوں کے خلاف آپ کی ایک تقریر سنی تھی جو ایک آریہ کے اسلام پر اعتراض کے جواب میں آپ نے کی تھی۔آپ کی تقریر سن کر ایمان کو بہت تقویت ملی تھی۔آپ نے جب آریہ مذہب کے عقائد بیان کئے تو تمام ساتنی اس وقت سن کر چیخ اٹھے تھے اور ان کی آریوں سے لڑائی بھی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے علی الصبح ہی تمام آریہ وہاں سے چلے گئے تھے ہمارے تھانے کا ہیڈ کلرک آریہ ہے۔وہ ہر وقت مسلمان سپاہیوں پر اعتراض کر کے تنگ کرتا رہتا ہے۔اگر آپ مناسب خیال کریں تو آپ اس سے دوستانہ ماحول میں بات چیت کروا دیں۔میں نے بات چیت کرنے کا وعدہ کر لیا۔میں اتوار کے دن ان کے ہاں گیا۔تھانیدار صاحب