میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 190 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 190

178 مبلغ ہیں جن کے جوتا پہنانے والے اردلی کو بھی کئی صد روپے تنخواہ ملتی ہے اور ہم اس کے مبلغ ہیں کہ جس کے اپنے گھر کی یہ حالت رہی ہے کہ جب بھی زیادہ مال آجا تا رات کو اس وقت تک نیند نہ آتی تھی جب تک اسے تقسیم نہ کر دیتے تھے اور خود بھی معمولی غذا پر گزارہ کرتے تھے۔اگر بیویوں نے اچھے کھانے کپڑے اور زیورات طلب کئے تو صاف جواب دے دیا کہ یہ سب چیزیں لے لو اور یہاں سے رخصت ہو جاؤ اور اگر اللہ اور رسول حاصل کرنا ہیں تو سادہ غذا کھاؤ“ سادہ لباس پہنو اور آخرت سنوارو۔اس لئے حافظ صاحبہ ہم تو اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں کہ ہمیں روٹی کپڑا مل جاتا ہے۔اور مسیح کے اصل حواریوں کی طرح ہماری زندگی گالیوں اور ملامتوں میں گزر رہی ہے۔ہم اپنے اللہ رسول ا اور مسیح موعود کا نام بلند کئے جاتے ہیں۔کسی لومة لائم کی کبھی پرواہ نہیں کی تا خدا تعالی خوش ہو جائے و ہی۔میری ان باتوں کا بہن صاحبہ پر بڑا اثر ہوا۔وہ کہنے لگیں کہ پہلے کھانا کھا لیں پھر باتیں ہوں گی۔میں نے اپنے بیگ میں سے پھل نکال کر اندر بھیجوا دیا۔بعدہ ہم نے کھانا کھایا۔کھانے کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہوا۔میں نے کہا حافظ صاحب آپ نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کی ہے۔گویا پیچھے جا کر آپ کو صداقت ملی ہے اس لئے (1) آپ مسیح کی تعلیم میں کوئی ایسی خوبی بتا دیں جو اسلام میں نہ پائی جاتی ہو۔(۲) دوسرے مسیح کی تعلیم نے (جو بقول عیسائی برادران تمام دنیا کے لئے ہے) دنیا میں ایک روحانیت کے رنگ میں ایسا انقلاب پیدا کر دیا ہو جس سے اسلام تہی دست رہا ہو۔(۳) تیسرے مسیح کی تعلیم پر عمل کر کے فی زمانہ کوئی بھی خدا تعالٰی سے تعلق پیدا کر لینے کا دعویدار ہو۔(۴) چوتھا مسیح کی تعلیم پر چل کر کسی نے مسیح کی روحانیت کو حاصل کر کے مسیح جیسے معجزات دکھائے ہوں؟ جیسے نادر زاد اندھوں کو آنکھیں دینا کوڑھیوں کا شفا دینا مردوں کو زندہ کرنا اور غیب