میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 186
174 یہ معنی کرنے لگے کہ یہ اس قسم کی معیت ہے جس طرح دیوار کے ساتھ "پاتھی" لگائی جاتی ہے۔میں نے کہا معاف کرنا مولوی صاحب آپ نے اس کلام الہی کی سخت توہین کر دی ہے۔اگر تھوڑی دیر کے لئے یہ معنی مان لئے جائیں تو اس امت کے صدیق اور صلحاء اس پاتھی کے مقام پر ہی رہ گئے اور اس دیوار نے جو رسول ے ہیں انہیں نہ اپنایا نہ تو ان میں اپنا رنگ ہی دیا اور نہ ان میں مضبوطی ہی پیدا کی اور نہ اپنے ساتھ ہی رہنے دیا اور انہیں صرف ایندھن کا کام لینے کے قابل ہی بنا دیا حالانکہ خدا تعالٰی فرماتے ہیں وحسن اولئک رفیقا اور وہ احسن رفاقت ہے۔کیا ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ہو تو وہ رفاقت احسن ہے یا چپڑاسی کی رفاقت احسن ہے ؟ مولوی صاحب ! یہ معیت کا لفظ مع " چاروں عہدوں پر چسپاں ہے یعنی نبی ، صدیق ، شہید اور صالح۔آپ نے نبی کی رفاقت سے امتی نبی کو الگ کرتے کرتے باقی تین درجے بھی مٹا دیے۔خدا تعالیٰ ہی اب اپنے فضل سے اسلام کی مدد فرمائے ورنہ عالم تو ہم نے دیکھے کہ اس امت میں کنجر ، چور ، شرابی زانی کاذب ، فاسق ، ڈاکو ، مشرک، بے نماز بے دین ، جاہل، جیب کترے، بھنگی چری تو سب جاری ہیں مگر اس خیر الامت میں نبی ، صدیق ، شہداء اور صالحین سب بند ہیں۔آج اس بات کو ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے اور اس امت کو پہلی سب امتوں سے ناقص ثابت کیا جا رہا ہے۔انا للہ وانا اليه راجعون وہ سب یہ سن کر خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔ہمارے احمدی دوست کہنے لگے کہ رات تو کافی گزر چکی ہے مگر خدا جانے یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے۔میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کہ وہ خوب سمجھتے ہیں۔ہماری رات نے دن کا کام دکھلایا ہے۔ہم نے بھی آرام کیا۔صبح کو جب میں بازار گیا تو شیخ نورالدین صاحب جو رات کو مولوی صاحب کے ہمراہ تھے بڑے تپاک سے ملے اور بتانے لگے کہ رات