میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 15 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 15

11 گا۔گورداسپور میں دوسری پیشی کے موقع پر میرے والد صاحب پھر عدالت میں گئے۔اس پیشی میں مخبر نے خود ہی اقرار کر لیا کہ یہ سب معاملہ بناوٹی ہے۔اس پر حضور کو بری کر دیا گیا۔اس وقت میرے والد صاحب نے مجھے بتایا کہ صاحب نے حضرت صاحب سے کہا کہ آپ ان جھوٹے گواہوں کے خلاف میرے پاس مقدمہ دائر کر دیں میں ان کو بغیر سزا کے نہیں چھوڑونگا مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ صاحب میرا مقدمہ خدا تعالیٰ کے دربار میں ہے۔میں کسی پر مقدمہ نہیں کرنا چاہتا۔صاحب پر اس بات کا بہت اچھا اثر ہوا۔عدالت میں اس وقت بے شمار لوگ آئے ہوئے تھے۔کچھ تو اس توقع کے ساتھ آئے تھے کہ آج مرزا صاحب کو ضرور سزا ہو جائے گی اور بعض حضرت صاحب کا چہرہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔حضور کے جواب نے ان پر بہت گہرا اثر کیا تھا۔جب حضور عدالت سے باہر تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کو گھیرے میں لے لیا اور کافی پیغتیں ہوئیں۔میرے والد صاحب نے بھی وہیں بیعت کی تھی۔الحمد للہ " خلیفہ اول کی دعا" سے ۱۹۰۲ء کے آخر میں میرا چھوٹا بھائی محمد علی تپ محرقہ۔وفات پا گیا۔والد صاحب کو اسکا بہت صدمہ تھا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور والد صاحب کو تسلی دی اور جماعت میں اعلان کیا کہ میاں محمد بخش کے لئے بہت دعا کریں کہ اللہ تعالٰی ان کو نیک لمبی عمر والا اور خادم دین بیٹا عطا فرمائے۔چونکہ میرے والدین بوڑھے تھے اس لئے والد صاحب یہ فرمایا کرتے تھے کہ اور اولاد کی تو مجھے امید نہ تھی ہاں میرا یہ اعتقاد پختہ ہو گیا کہ میرا موجودہ لڑکا جس کا نام محمد حسین ہے (یعنی عاجز) اس کو ہی اللہ تعالی لمبی عمر دیگا اور خدمت دین کی توفیق دیگا۔مجھے والد صاحب کی زندگی میں ہی تبلیغ کا بہت شوق تھا۔بچپن میں ہی میں حتی المقدور تبلیغ کیا کرتا تھا۔جب والد