میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 14 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 14

10 جواب دیا کہ میری فہرست میں آپ کا نام کرسی نشینوں کی فہرست میں نہیں ہے۔مولوی صاحب کے دوبارہ اصرار پر ڈپٹی کمشنر نے انہیں جھڑک دیا۔اس پر مولوی صاحب برآمدے میں پڑی ہوئی ایک کرسی پر جا بیٹھے جہاں سے چپڑاسی نے یہ کہتے ہوئے اٹھا دیا کہ آپ کیوں میری روٹی بند کروانے لگے ہیں۔صاحب نے آپ کو کری نہیں دی تو میں کیسے دے سکتا ہوں؟ وہاں سے مولوی صاحب سراسیمگی کی حالت میں اٹھ کر میرے والد صاحب کے پاس آئے اور ان کے کندھے سے چادر اتار کر زمین پر بچھا کر بیٹھ گئے۔میرے والد صاحب نے چونکہ اسی دن حضرت مسیح موعود کو پہلی بار بغور دیکھا تھا اور دیکھتے ہی طبیعت پر ایسا اثر پڑا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی سے نفرت ہو گئی۔اس خیال سے کہ ایسی بزرگ ہستی کے خلاف عیسائیوں کی طرف سے جھوٹا گواہ بن کر سزا دلوانے کے لئے آئے ہیں۔والد صاحب کے دل میں ایسا جوش پیدا ہوا کہ مولوی صاحب سے کہا کہ میری چادر دیدو اور زبردستی مولوی صاحب کے نیچے سے چادر کھینچ لی اور جھاڑ کر کہا میری چادر پلید کر دی ہے۔عدالت میں دوسرے گواہ اپنی شہادتیں قلم بند کرواتے رہے۔اس مقدمہ کی دوسری پیشی گورداسپور کی عدالت میں ہونا قرار پائی۔مولوی صاحب جب عدالت میں کرسی طلب کر رہے تھے اس وقت یہ الفاظ بھی کہے کہ صاحب میری پوزیشن کا خیال رکھو۔اس وقت حضرت مسیح موعود کے وکیل نے کہا کہ حضور اس کی پوزیشن کا ضرور معلوم کر لیںنے اس وقت حضرت مسیح موعود نے اپنے وکیل کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا " ولا تجسسوا ولا يغتب" یعنی کسی کا عیب تلاش نہ کرو۔صاحب نے اپنے ریڈر سے پوچھا کہ مرزا صاحب نے اپنے وکیل سے کیا کہہ کر روک دیا ہے۔چونکہ مولوی صاحب کی پیدائش بھی گھناؤنی تھی اس لئے حضور نے روک دیا تھا مگر ریڈر صاحب نے کہا کہ میں لنچ (دوپہر کا کھانا) کے وقت آپ کو بتاؤں