میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 182 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 182

170 اور ساتھ العلماء ورثه الانبیاء کا ذکر کیا کہ میرے دین کی خدمت کریں گے۔پھر علماء کے اختلافات اور امت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا بیان کیا اور مسیح موعود کی آمد کی غرض اور ادیان باطلہ کا اسلام پر حملہ اور حضرت مسیح موعود کا مقابلہ کر کے عیسائیوں، یہودیوں اور آریوں سے انعام رکھ کر چیلنج کرنا اور ان کا اسلام کی برتری ثابت کر کے لاکھوں کی تعداد میں ایک تبلیغی جماعت کا قائم کرنا بیان کیا اور اب ان کے خلفاء کا زمانہ ہے دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔اب ہر اس بھائی کا جس کے دل میں اسلام کی ترقی کا عشق ہے اس جماعت میں شامل ہونا رسول پاک کی خوشنودی کا موجب ہے۔اللہ تعالی ہر مسلمان کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔آمین۔غرضیکہ ساری تقریر میں مرزا صاحب کا نام نہ آنے دیا اور دعا پر جلسہ ختم ہوا جماعت کے دوست بہت خوش ہوئے۔بعدۀ مولوی ابراہیم صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لیکچرز ہوں تو ایسے ہوں۔مرزا صاحب کی صداقت بھی بیان کر دی نہ ماننے والوں کو کافر بھی ثابت کر دیا اور اپنے اوپر حرف بھی نہ آنے دیا۔پھر علیحدگی میں مجھ سے ملا اور کہنے لگا کہ اگر آپ کی جماعت مجھے اپنا مبلغ بنا لے اور معقول گزارہ الاؤنس دے تو میں بھی آپ میں شامل ہو جاؤں گا۔میں نے کہا کہ مولوی صاحب ! اگر آپ گزارہ کے لئے شامل ہوتے ہیں تو آپ کو لے نہیں سکتے اور اگر احمدیت کو سچا مان کر شامل ہونا چاہتے ہیں تو آئیے بسم اللہ۔وہ بے چارے ایسے خاموش ہو کر گئے کہ دوبارہ کبھی نظر نہ آئے۔ایک دن انجمن شعبہ تبلیغ انبالہ کی طرف سے ملازمت کی پیشکش میں بذریعہ ریل انبالہ چھاؤنی جا رہا تھا کہ بابو عبدالحلیم صاحب ہیڈ کلرک انجمن شعبہ تبلیغ جو سید غلام بھیک صاحب نے قائم کی ہوئی تھی مجھے چھاؤنی کے سٹیشن پر ملے اور ایک