میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 177
165 وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے وہاں دو دن مزید رکھا۔دونوں صاحب کی شدید مصروفیت کی بنا پر تبلیغ کا موقع نہ ملا اور میں واپس انبالہ آگیا۔ہمارے وہاں کے امیر جماعت بابو عبد الرحمن صاحب اس بات کا بے حد شوق رکھتے تھے کہ جو بات چیت دورہ کے دوران ہوئی ہو وہ نہیں۔لہذا انہیں ساری باتیں سنائی گئیں۔وہ بھی بہت خوش ہوئے اور میری ٹی پارٹی بھی کی اور اسی دوران دوستوں کو بھی باتیں سناتے رہے۔برست ضلع کرنال ضلع کرنال میں ایمان اصحاب ثلاثہ پر بحث میں ایک بہت بڑا گاؤں تھا جس میں نصف سنی ، نصف شیعہ اور ایک احمدی صاحب رہ رہے تھے۔وہاں ایمان اصحاب ثلاثہ پر بحث مقرر ہو گئی۔ان سینوں نے احمدی دوست سے کہا کہ یہ آپ کا اور ہمارا مشترکہ مسئلہ ہے۔اگر ہم اپنے کسی مولوی کو بلوا ئیں تو وہ ہمارا دیوالیہ نکالنے کے علاوہ بہت ممکن ہے کہ لڑائی کرا دے۔اس لئے یہ بہت بہتر ہو گا اگر آپ اپنے کسی مولوی کو بلوالیں۔غرضیکہ اس احمدی دوست نے مرکز کو چٹھی لکھی۔مرکز سے مجھے وہاں پہنچے کا حکم ملا۔جب میں برست پہنچا تو وہاں فریقین کی گاڑیاں آئی ہوئی تھیں۔میرا سبز صافہ دیکھ کر شیعوں نے یہ خیال کیا کہ یہ ہمارے مولوی ہیں جو لاہور سے آئے ہیں چنانچہ انہوں نے اپنی گاڑی پر مجھے سوار کر لیا اور دہلی والی گاڑی پر مولوی عمرالدین صاحب شملوی تشریف لے آئے۔تھوڑی دیر بعد وہاں ایک صاحب لاتین لائے جس کی روشنی میں ہم نے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا اور ہم ایک ہی گاڑی میں اکٹھے ہو گئے۔اب شیعہ بہت مایوس ہوئے کہ سینوں کے دو مولوی آگئے ہیں اور ہمارا ایک مولوی بھی ابھی تک نہیں پہنچا۔بڑے میں کہنے لگے کہ جب ہمارے مولوی کا وقت آتا ہے تو چھپ جاتے ہیں اور