میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 13
9 کی نماز ادا کرتے تھے اور ان کے ہی مداح تھے اور باوجود ان پڑھ ہونے کے بہت ہی ذہین تھے۔آپ نے قرآن پاک ناظرہ بھی نہیں پڑھا ہوا تھا مگر پہلے پارہ کا پہلا ربع اور تیسویں پارہ کا آخری ربع زبانی یاد تھا۔وہ بتاتے تھے کہ پہلے پارے کا پہلا ربع ایک حافظ سے حفظ کیا تھا اور آخری پارے کا آخری ربع مقتدی ہونے کی حیثیت میں مختلف اماموں کی قرأت سن کر ہی حفظ کر لیا تھا۔آپ مسائل کو بھی خوب یاد رکھتے تھے۔مارٹن کلارک کی طرف سے یکم اگست ۱۸۹۷ء کو حضرت مسیح موعود پر مقدمه اقدام قتل دائر کیا گیا تھا۔اس کا بیان تھا کہ مرزا صاحب نے عبد الحمید نامی ایک شخص کو میرے قتل کے ارادے سے بھیجا تھا۔یہ شخص جہلم کا رہنے والا تھا۔مسٹر ڈگلس نے جو وہاں کا ڈپٹی کمشنر تھا اس مقدمہ کی پہلی پیشی بٹالہ میں رکھی۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے بھی حضور کے خلاف گواہی دینے کا ان سے وعدہ کر رکھا تھا۔جس دن پہلی پیشی تھی اس دن مولوی محمد حسین بٹالوی اپنی مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے نہ آئے۔میرے والد صاحب اس وقت چونکہ اہل حدیث تھے اور نماز جمعہ مولوی محمد حسین بٹالوجی کے پیچھے ہی پڑھا کرتے تھے اس لئے اس دن نائب امام الصلوۃ مولوی امام دین کے پیچھے نماز ادا کرنے سے محمد حسین بٹالوی کی غیر حاضری محسوس کی۔نماز کے بعد مولوی صاحب نے میرے والد صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں آج شیر کے منہ میں بکرا آنے والا ہے۔اگر وہ جان سے نہ مارا گیا تو زخمی ہونے سے بھی نہ بچ سکے گا۔گویا مولوی محمد حسین بٹالوی کو شیر بنایا اور حضرت مسیح موعود کو (نعوذ باللہ ) بکرے سے تعبیر کیا۔اور میرے والد صاحب سے کہا کہ آپ آج عدالت میں ضرور آئیں۔میں بھی رہاں مقدمہ سننے کے لئے آؤں گا۔میرے والد صاحب کندھے پر چادر رکھ کر عدالت میں پہنچ گئے تو اس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی ڈپٹی کمشنر سے کرسی کا مطالبہ کر رہے تھے اور ڈپٹی کمشنر صاحب نے ان کو یہ