میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 157
145 سامنے رکھ دوں تو آپ انہیں منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہیں گے مگر ہم شرافت سے ہی بات کرنا پسند کرتے ہیں۔آپ میرے ساتھ شرائط مناظرہ طے کر لیں تو پھر ہم دونوں فریق تھانہ میں رپورٹ کر دیں گے وہاں سے پولیس آجائے گی اور مناظرہ امن سے ہو جائے گا اور لوگ بھی سکون سے دلائل سن لیں گے۔کہنے لگا تمہارے مرزا صاحب بھی حکومت کے بل بوتے پر زندہ رہے اور تم بھی حکومت کی طرف ہی بھاگتے ہو۔ہمیں اس معاملہ میں حکومت کی کوئی ضرورت نہیں۔اگر مناظرہ کرنا ہے تو کرو مگر تم میں یہ طاقت کہاں کہ لال حسین کے مقابل کھڑے ہو سکو۔میں نے کہا کہ لال حسین صاحب آپ خوب جانتے ہیں کہ مرزائیوں کے دلائل کتنے ٹھوس ہوتے ہیں کہ نہ تو کوئی آریہ نہ عیسائی اور نہ لال حسین جیسا کوئی ہمارے مقابلہ پر آج تک ٹھہرا ہے اور نہ خدا کے فضل سے ٹھرے گا۔مرزا صاحب اس وقت اکیلے تھے جب سے یہ لوگ مقابلہ کرتے آئے ہیں مگر مرزا صاحب نے ان کے سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں آدمیوں کو اپنے حلقہ اثر میں لے لیا مگر ان لوگوں نے بھی قسم کھائی ہوئی ہے کہ ہم نے بھی یہ رٹ نہیں چھوڑنی کہ یہ جھوٹا ہے۔یہ جھوٹا ہے مگر لال حسین کے پڑوس میں رہنے والے مرزا صاحب کو صادق اور لال حسین کو کاذب جانتے ہیں۔اس کے علاوہ لال حسین کے خالو خالہ اور خالہ زاد بھائی جو مولوی فاضل ہیں اور لال حسین ڈل ٹیل ہے۔وہ سب کے سب مرزا صاحب کو صادق اور اال حسین کو کاذب سمجھتے ہیں۔اور میرے ساتھ لال حسین اس بات پر ایک گھنٹہ تک مناظرہ کرے کہ یہ پہلے کاذب تھے یا اب کاذب ہیں۔اگر میں ان کی خود نوشت تحریر سے یہ ثابت نہ کر دوں کہ یہ کاذب ہیں تو پچاس روپیہ ہرجانہ دونگا۔کیا لال حسین اس بات پر تیار ہیں؟ اس وقت سردار محمد افضل صاحب نمبر دار بولے کہ احمدی مولوی صاحب تو یہ چاہتے ہیں کہ مناظرہ حکومت کی موجودگی