میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 11
7 کے لئے گیا ہوں۔اس وقت بہت پرانی طرز کی تھی جس میں تین در تھے۔میری خواہش تھی کہ میں جلد پہنچ کر پہلی صف میں بیٹھوں۔جب میں لوگوں میں سے گذرتا ہوا درمیانے در کے قریب پہنچا تو پیچھے سے آواز آئی ”مولوی صاحب" عاجز نے خیال کیا کہ کسی اور کو کسی نے بلایا ہے کیونکہ میں تو مولوی نہیں ہوں اور اس آواز سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھا۔جب درمیانے دروازے کے اندر پہنچا تو پھر آواز آئی۔مولوی صاحب اس مرتبہ پیچھے سر گھمایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود اس عاجز کو پکار رہے تھے۔میں نے جلدی سے صحن میں آکر حضور سے ملاقات کی۔حضور نے میرا ہاتھ نہ چھوڑا اور مجھے بائیں ران پر بٹھا کر پوچھنے لگے کہ مولوی صاحب آج کل لوگ ہم پر کیا اعتراض کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ حضور کی نبوت پر ہی لوگ بحث کرتے ہیں تو حضور نے پوچھا آپ پھر کیا جواب دیتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نہ تو کوئی کتاب لائے ہیں اور نہ نیا قبلہ اور نہ ہی نیا کلمہ تو وہ نبی کیسے ہو گئے۔میں ان سے پھر یہی پوچھتا ہوں کہ آپ کے پاس کتنے کھلے ہیں وہ کہتے ہیں۔"آٹھ " پھر میں کہتا ہوں کتابیں کتنی ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں چار پھر میں پوچھتا ہوں کہ آج تک کتنے قبلے بنے ہیں تو وہ کہتے ہیں "ورد" پھر میں پوچھتا ہوں کہ آج تک دنیا میں کتنے نبی آئے ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں ایک لاکھ چوبیس ہزار " پھر میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ جب ہر نبی کا کلمہ ، قبلہ اور کتاب الگ الگ ہوتی ہے تو پھر باقی کلے ، قبلے اور کتابیں کہاں ہیں؟ اس پر وہ لاجواب ہو جاتے ہیں۔حضور میرا جواب سن کر فرمانے لگے کہ یہی جواب درست ہے۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میرے دل میں تحریک ہوئی کہ اب چونکہ سیدنا حضرت مسیح موعود نے "مولوی" کا خطاب دے دیا ہے لہذا کسی کے مولوی کہنے پر اب میں ناراض نہیں ہوں گا۔پھر اللہ تعالی نے اپنے فضل