میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 142 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 142

130 سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے جلسے انہیں پسند نہیں جو امن کو قائم رکھنے کی تعلیم دیں۔ان کے لئے بغاوت پھیلانے والے جلسے مفید ہیں۔اب جب کہ یہ معاملہ عدالت میں جائے گا تو خدا جانے یہ کیا جواب دیں گے؟ بہر حال اب وہیں دیکھا جائے گا۔میں تینوں ریاستوں یعنی پٹیالہ نا بھ اور جنید کا مبلغ ہوں اور ہر جگہ جلسے کراتا ہوں۔وہاں گورنمنٹ کے سب افسر بھی موجود ہوتے ہیں اور شکریہ ادا کرتے ہیں مگر یہ نزالی چال یہاں ہی دیکھی ہے کہ تھانے کے ذمہ دار افسر نے یہ منادی کروادی کہ تقریر نہیں ہو گی۔مجھے اس کا بڑا افسوس ہے۔بعدہ میں نے دین حق قرآن پاک اور احمدیت کی صداقت بیان کی۔اڑھائی گھنٹے کی تقریر بخیر و خوبی اختتام کو پنچی اور دعا پر جلسہ ختم ہوا۔جلسہ کے بعد تھانیدار صاحب ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے ایک غلط فہمی کی بناء پر منادی کروائی تھی کہ کہیں یہ تقریر بھی امن کے خلاف نہ ہو۔آپ نے جتنی باتیں بھی اپنی تقریر کے دوران بیان کی ہیں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔آپ اور وکیل صاحب صبح چائے میرے ڈیرے پر پینے کے لئے تشریف لا ئیں اور میں اپنے اس فعل پر نادم ہوں اور آپ سے معافی مانگتا ہوں۔شیخ صاحب نے منظور کر لیا۔صبح کے وقت ہم ان کے ڈیرے پر پہنچ گئے انہوں نے بڑی پر تکلف چائے پلائی اور دوبارہ معافی مانگ کر کہنے لگے کہ آپ اب اس معاملہ کو مزید آگے نہ چلائیں۔ہم نے کہا بہت اچھا۔ہم سارے معاملہ کو نہیں ختم کرتے ہیں اور آئندہ سے آپ بھی احتیاط سے کام لیا کریں۔دفتر سے نظم آیا کہ آپ اپنا ہیڈ کوارٹر روپڑ ضلع انبالہ میں میرا بائیکاٹ ہیڈ کوارٹر روپڑ میں بنائیں۔میں رو پڑ چلا گیا۔وہاں مجھ سے قبل کوئی احمدی دوست نہ تھا۔میں نے سرائے میں ایک کمرہ کرائے پر لیا اور اس میں ٹھہر گیا اور اکثر بازار میں لوگوں سے تعلقات پیدا