میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 133 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 133

121 ہوئے سوائے جلا ہکہ محلہ میں وہاں جلسہ کے دوران ایک اہلحدیث بابا جی اٹھ کر بڑے زور سے کہنے لگے کہ مرزائی بھی جھوٹے اور ان کے تمام مبلغ بھی جھوٹے ہیں۔اس کے ایسا کہنے سے بعض غصہ میں آگئے لیکن میرے روکنے سے رک گئے۔میں نے بابا جی سے بڑی محبت سے پوچھا کہ آپ نے کس لئے سب احمدیوں کو جھوٹا کہہ کر اس بڑھاپے کی عمر میں گناہ کمایا ہے کہنے لگا کہ آپ لوگوں نے جو نوٹ بک لکھی ہے اس میں تفسیر محمدی کے حوالہ سے لکھا ہے۔پیو دے نال مشابہ بیٹا ہوندا شک نہ کوئی زنده رب ہمیش نه مرسی موت عیسی نوں ہوئی تفیسر محمدی میں نہیں ہے۔اگر ایسا دکھا دو تو انعام لے لو۔میں نے کہا بابا جی اگر یہ اس تفسیر میں نہ ہوا تو میں اقرار کر لوں گا کہ یہ حوالہ غلط لکھا ہوا ہے اور اگر ہوا تو پھر آپ کیا انعام دیں گے۔کہنے لگا پچاس روپے۔میں نے کہا کہ آپ پچاس روپنے ایک شریف ہندو کے پاس جمع کروا دیں اور اگر یہ حوالہ نکل آیا تو وہ پچاس روپے مجھے دے دے گا اور اگر حوالہ نہ نکلا تو میں سارے مجمع میں یہ اعلان کر دونگا کہ یہ حوالہ غلط لکھا ہوا ہے اور وہ پچاس روپے آپ کو واپس کر دیئے جائیں گے۔بابا جی نے فورا" بذریعہ پروٹوٹ پچاس روپے جمع کروا دیئے اور گھر سے تفسیر لے آئے اور مجھے دی۔میں نے فورا سورہ آل عمران کے دیباچہ سے حوالہ نکال کر اس ہندی کے پاس رکھ دیا اور کہا کہ لالہ جی پڑھ کر سب کو سنا دو اور پچاس روپے مجھے دے دو۔بابا جی نے شور مچانا شروع کر دیا۔ایسا کرنے پر ہندو نے حوالہ دکھایا تو بابا جی کہنے لگے کہ مجھ سے پڑھا نہیں جاتا اس پر دو مسلمانوں نے پڑھ کر بابا سے کہا کہ حوالہ ٹھیک ہے۔میں نے کہا کہ اب پچاس روپے بھی دے بیٹھے ہو اور احمدی بھی بچے ثابت ہو گئے ہیں۔اب جاؤ اپنے گھر میں بیٹھو اور آرام کرو۔غرضیکہ حوالہ سننے