میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 131 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 131

119 حالت کو برداشت نہ کر سکتے ہوں وہ بجائے وہاں سے بھاگنے کے گھر ہی سے تشریف نہ لائیں۔صوفی محلہ میں ایک چوک تھا وہاں میں نے پہلے تلاوت اور پھر نظم پڑھوائی۔اس چوک کے قریب ہی ایک بیت تھی وہاں مخالفین نے اکٹھے ہو کر پورے زور و شور سے درود شروع کر دیا تاکہ ہماری آواز دوسروں تک نہ پہنچ سکے۔میں نے صوفی صاحب سے پوچھا کہ یہ درود شریف روزانہ پڑھتے ہیں کہ آج ہی پڑھا جا رہا ہے۔کہنے لگے کہ آج ہی ایسا ہو رہا ہے۔مکانوں کی چھتوں پر غیر احمدی مرد اور عورتیں بیٹھے ہوئے تھے اور چوک میں احمدیوں سے زیادہ غیر از جماعت لوگ بیٹھے تھے۔میں نے کلمہ شہادت فاتحہ اور درود شریف پڑھنے کے بعد تقریر شروع کی کہ پیارے بھائیو اور بہنو ہمارا اس جگہ پر جلسہ کرنا کس قدر بابرکت ثابت ہوا ہے کہ رحمته اللعالمین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر طرف سے درود بھیجا جانے لگا ہے۔اب میں آپ کو درود شریف کا ترجمہ سناتا ہوں پھر تفصیل بتاؤں گا۔میری آواز بھی کافی بلند تھی اور سامعین پر بھی خاموشی طاری ہو گئی اور بغور سننے لگے مجھے اطلاع ملی کہ بیت میں ہم پر خشت باری کے لئے کافی روڑے اکٹھے کر لئے گئے ہیں اور اب ان کا مارنے کا پروگرام ہے۔میں نے تقریر ہی میں بتایا کہ آج آریہ اور عیسائی یہ کہتے ہیں کہ محمد کی صداقت ثابت کرو۔وہ تو جدھر جاتے تھے انہیں لوگ پتھر مارتے تھے کبھی راستے میں کانٹے بچھا دیتے کبھی راستے میں گڑھا کھود دیتے۔گلی سے جاتے وقت ان پر کوڑا پھینک دیتے۔نماز میں سجدہ کرتے وقت ان کے سر پر اونٹ کی اوجھری رکھ دیتے۔کبھی گلے میں پھندہ ڈال دیتے کبھی ان کو زخمی کر دیتے کبھی سارا وجود ہی لہو لہان کر دیتے۔مگر کیا وہ یہ دیکھتے نہیں کہ جس وجود نے اتنی تکلیفوں میں پرورش پائی تھی آج بھی اس پر ہر گلی کوچہ شہر اور ملک میں درود پڑھا جا رہا ہے۔کیا مخالفین ان کا کچھ بگاڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ہرگز