میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 128 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 128

116 کے قابل ہو گئے۔گاؤں کے سب مرد اور عورتیں جمعہ و نماز وغیرہ کی بہت پابند ہو گئیں اور احمدیت کے متعلق خاص خاص مسائل سے آگاہ ہو گئیں۔اس گاؤں کے سات افراد بھی اپنی مرضی سے سلسلہ احمدیت میں داخل ہو گئے۔شروع شروع میں جب میں نگلہ گھنو پہنچا نگلہ گھنو (ملکانہ) میں قبول احمدیت تو وہاں کے دیو بندی مولویوں نے شور مچا دیا کہ یہ مولوی آپ کو قادیانی بنا لے گا۔ان لوگوں نے اس بارے میں مجھ سے پوچھنا شروع کیا تو میں نے ان سے کہا کہ جب تک میں آپ کے پاس رہوں گا کبھی بھی اپنی زبان سے آپ کو احمدی ہونے کے متعلق نہیں کہوں گا اور اس پر آخر تک کاربند رہا مگر احمدیت کی ساری تعلیم ان پر واضح کر دی۔جب میری تبدیلی کے دن قریب آئے تو وہاں کے ایک امیر اثر و رسوخ والے آدمی رئیس جان محمد خان صاحب نے خواب میں دیکھا کہ دنیا پر بارش سے تباہی آچکی ہے اور آسمان سے سیر میر بھر کے اولے گر رہے ہیں جن سے تمام باغات اور فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور میں تباہ شدہ چوپال کی ایک دیوار سے چمٹا ہوا ہوں اور رو رہا ہوں کیونکہ چرند پرند اور انسان سب مرچکے ہیں اور میدان اولوں سے بھرا پڑا ہے۔میں بڑے غور سے دیکھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ بیت محفوظ ہے اور اس کے اندر آپ بلند آواز سے قرآن پاک پڑھ رہے ہیں۔آپ کو دیکھ کر مجھے کچھ تسلی ہوتی ہے کہ مولوی صاحب تو زندہ ہیں مگر اولے بڑی کثرت سے گر رہے ہیں۔آپ بیت سے نکل کر میدان کی طرف چل دیتے ہیں اور میں گھبرا جاتا ہوں کہ اب مولوی صاحب نہیں بچیں گے مگر کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کے اوپر نہ تو بارش ہی پڑی ہے اور نہ ہی اولے اور آپ جس طرف جاتے ہیں آپ کے سامنے راستہ پر سے اولے دونوں طرف سے ہٹتے جاتے ہیں اور راستہ صاف ہوتا جا رہا ہے میں بہت حیران ہوتا ہوں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟