میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 110
98 ہوں۔غرضیکہ وہ واپس چلا گیا رات کو ناچ وغیرہ ہوا جس میں اس نے چوہدری کا کردار ادا کیا۔اسے ساتھ والے گاؤں کے ٹھاکر بھی دیکھنے گئے ہوئے تھے۔ان کی آگے بڑھ کر بیٹھنے پر لڑائی ہو گئی اور وہ واپس آگئے۔صبح وہ ان کے گاؤں میں لوہار سے کھر پہ بنوانے گیا اور وہاں وہ بھٹی میں کھال سے پھونک پہنچا رہا تھا کہ وہاں رات والے تینوں نوجوان بھی پہنچ گئے جن سے اس کی رات لڑائی ہو گئی تھی۔انہوں نے اسے دیکھ لیا اور ایک نے بڑھ کر اس کے سر پر لاٹھی ماری۔ابھی وہ سنبھلنے بھی نہ پایا تھا کہ دوسرے نے اور پھر تیسرے نے بھی دے ماری جس سے وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔مجھے صبح کے وقت جب اس تماشہ میں جانے والوں نے آکر بتایا کہ بھوپ سنگھ سے لڑائی ہوتے ہوتے بمشکل بچی ہے تو میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کہ میرا خدا تعالی اسے نہیں چھوڑے گا۔دوپہر کو اس کے مرنے کی خبر آگئی۔وہاں سب لوگ اس کی لاش دیکھنے گئے۔ہمارے حلقہ کے تھانے میں میرا ایک دوست نرائن سنگھ تھانیدار لگا ہوا تھا جو ترن تارن ضلع امرتسر کا رہنے والا تھا۔میرا پہلے ارادہ تو بنا تھا کہ میں اس تک بھوپ سنگھ کی رپورٹ پہنچا دوں مگر ابھی پہنچائی نہ تھی وہ تھانیدار میرے پاس آیا اور کہنے لگا مولوی صاحب آپ کے حلقہ میں خون ہو گیا ہے اور آپ یہیں بیٹھے ہیں۔آئیں چلیں اور آپ کے دوست انسپکٹر پولیس کے نام تار دے آیا ہوں۔وہ بھی تھوڑی دیر تک وہاں آجائیں گے۔یہ انسپکٹر ضلع بلند شہر کے رہنے والے تھے اور احمدی تھے مگر اخبار پیغام صلح اور الفضل دونوں منگوایا کرتے تھے۔ان کا نام غلام محی الدین خان تھا اور ان کی اہلیہ اہل حدیث تھی۔وہ F۔A پاس تھی اور احمدیت کی اشد مخالف تھی۔وہ خدا تعالٰی کے فضل سے میری تبلیغ سے بعد رفع شکوک احمدی ہو گئی تھی اور بہت مخلص ہو گئی تھی۔بعدہ اس نے پیغام صلح اخبار منگوانا بند کر دیا تھا اور الفضل منگواتی رہی۔میں نے بھی جانے کے لئے گھوڑی منگوا