میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 100
88 مسائل چھیڑے تھے اور آپ نے جواب دیئے تھے۔جن کے متعلق اور تو تمام حوالے میں نے نوٹ کر لئے ہیں مگر تحذیر الناس کا حوالہ مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کا میں قادیان جا کر دیکھوں گا اور بیعت کر لوں گا۔میں نے اسی وقت آگرہ مرکز کو چٹھی لکھی کہ اگرہ میں دیوبندی بھی ایک مکان میں بند ہیں لہذا مولوی مهدی حسن صاحب کو فورا قلیاون پہنچا دیں۔چھٹے دن آگرہ سے چٹھی آئی کہ جزاک اللہ۔آپ کی امانت اسی دن وفد کے ساتھ روانہ کر دی تھی۔دو دن کے بعد مهدی حسن صاحب کی چٹھی آئی کہ آپ کو مبارک ہو میں نے پہلے وہ حوالہ دیکھا تھا جو ٹھیک تھا اور بعد نماز جمعہ میں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی بیعت کرلی ہے۔اب حضور نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں کچھ عرصہ یہاں رہ کر کتب کا مطالعہ کروں گا بعدۂ حضور کا جو ارشاد ہو گا اس پر عمل کیا جائے گا۔ایک ہفتہ کا عرصہ گذرنے پر ایک دیو بندی انسپیکٹر دیوبندی انسپکٹر کا ورود ہمارے پاس آگرہ سے آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے مولوی مهدی حسن صاحب فاضل دیو بند یہاں بھیجے تھے آپ کو ان کے متعلق کیا کوئی علم ہے؟ میں نے کہا میرے پاس ہر فرقہ کے مولوی صاحبان آتے ہی رہتے ہیں آپ اس وقت آرام کریں کھانے کا وقت بھی ہو چکا ہے اور ابھی میں نے بھی کھانا کھانا ہے۔پھر بیٹھ کر تسلی سے باتیں کریں گے۔میں اب مغرب کی نماز پڑھانے جا رہا ہوں۔آپ نہیں بیٹھیں۔وہ کہنے لگا کہ میں نے بھی نماز پڑھنی ہے لیکن تھکاوٹ کی وجہ سے ذرا ٹھہر کر پڑھوں گا۔میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد گھر گیا اور ان کا کھانا بھی ہمراہ لے آیا وہاں پہنچ کر دونوں نے مل کر کھایا۔وہاں جان محمد خان بھی بیٹھے ہوئے تھے۔بولے کہ مولوی صاحب آپ سے پہلے یہاں دیو بندی مولوی صاحب آئے تھے اس وقت یہاں قادیانی مولوی صاحب نہیں تھے تو انہوں