میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 99
87 جاتے ہیں تو تمام سامان اپنے ہمراہ لے جاتے ہیں اور واپسی پر ساتھ لے آتے ہیں۔اس سے قبل کوئی مولوی ایسا نہیں کرتا تھا۔اس لئے ہم انہیں چور سمجھتے ہیں۔آپ مہربانی فرما کر انہیں نگلہ گھنو ںلگا دیں اور آپ یہاں آجائیں۔میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس بیت سے کوئی راہ گیر یا مسافر ایک مولوی صاحب کی گھڑی اٹھا کر لے گیا تھا اور دوسرے مولوی صاحب کے کپڑے جاتے رہے تھے۔اگر یہ مولوی صاحب اس بات کی احتیاط رکھتے ہیں تو اس میں آپ کا کیا حرج ہے۔اس طرح نہ تو آپ پر کوئی الزام لگ سکتا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی نقصان ہو سکتا ہے۔پھر مولوی صاحب پوچھنے لگے کہ میرے کھانے کا کیا انتظام ہو گا؟ میں نے کہا کہ آپ دس روپے ماہوار انہیں دے دیا کریں۔یہ دال روٹی، صبح کا ناشتہ لسی کے ساتھ آپ کو دے دیا کریں گے اور تین دن کے بعد گوشت روٹی دیا کریں گے۔مولوی صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ یہ لوگ پانچ آنے روزانہ شام کو مجھ سے لے لیا کریں۔یہ ایک روپیہ میں ابھی دیتا ہوں۔غرضیکہ ان کا آپس میں سودا کروا کر میں واپس چلا گیا۔ابھی تین دن ہی گذرے مولوی مهدی حسن دیوبندی کا قبول احمدیت تھے کہ مولوی صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں ان لوگوں میں نہیں رہ سکتا۔یہ صرف آپ کا ہی حوصلہ ہے۔چونکہ آپ کے اخلاق نے مجھ پر گہرا اثر کیا ہے۔لہذا میں آپ کے مرکز میں جا کر کچھ عرصہ رہنا چاہتا ہوں اور مرزا صاحب کی کتب کا مطالعہ کر کے احمدیت میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔میرا آپ کے بغیر خدا کی قسم دل نہیں لگتا اور میں ید نام ہو جاؤنگا کیونکہ میرے تمام افسر بھی دیو بندی ہیں اور یہ لوگ شکایت کریں گے کہ اسے قادیانی مولوی صاحب سے محبت ہے جو میرے لئے ٹھیک نہیں۔میں نے آپ کو دل کی بات بتادی ہے ورنہ احمدی تو پرسوں ہی ہو گیا تھا جب میں نے اختلافی