میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 88
76 ہیں۔ایک پر نوکر رکھا ہوا ہے دوسرا خود چلاتے ہیں۔یکے بھی قرض لیکر بنائے ہوئے ہیں۔جو کماتے ہیں کھا لیتے ہیں مگر اپنی نوابوں کی سی ٹھاٹھ سے باز نہیں آتے۔میں نے کہا کہ جب ہم علی گنج جائیں گے تو ضرور اچھن خاں کے مکان پر جائیں گے۔گاؤں کے لوگ کہنے لگے کہ اس سرے کے مکان پر کیا لینے جاتا ہے۔اس نے تو کبھی ہمیں پانی بھی نہیں پوچھا۔۱۹۲۴ء میں حضرت المصلح الموعود ولایت حضور کی انگلستان سے واپسی تشریف لے گئے اور اپنی عدم موجودگی میں حضرت مولوی شیر علی صاحب کو جماعت کے امیر مقرر کر گئے۔انہیں دنوں کابل میں امیر امان اللہ خان صاحب والی کابل کی موجودگی میں محترم نعمت اللہ خاں صاحب احمدی کو شہید کر دیا گیا اور ان کے علاوہ دو اور احمدی احباب مکرم قاضی نور علی صاحب اور عبد الحلیم خاں صاحب کو احمدیت کی بناء پر شہید کر دیا گیا۔یہ دلوں کو ہلا دینے والی سنسنی خیز خبر جب قادیان پہنچی تو سننے والوں کو بہت صدمہ ہوا اور حضرت مولوی شیر علی صاحب نے یہ اعلان کروایا کہ میری یہ خواہش ہے کہ کابل میں ہمارے ایسے احمدی دوست جائیں جو اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔میں اس وقت علاقہ ملکانہ موضع نگلہ گھنو میں تھا۔میں نے یہ مرکزی اعلان سنتے ہیں مولوی صاحب کی خدمت میں درخواست دے دی کہ میں کابل میں آپ کے پروگرام کے تحت جاکر جان دینے کے لئے تیار ہوں۔آپ کے جواب کا منتظر محمد حسین مبلغ ملکانہ مجھے چند دنوں کے بعد جواب چلا گیا کہ آپ کا نام لکھ لیا گیا ہے۔مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ میری درخواست منظور ہو گئی ہے۔جب حضور انگلستان سے واپس تشریف لائے تو ساند ھن سے ہوتے ہوئے جماعت آگرہ کی درخواست پر اگرہ بھی تشریف لائے۔ہم مبلغین علاقہ ملکانہ آگرہ میں حضور کے استقبال کے لئے