میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 58 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 58

46 بابرکت پایا اور مفید ثابت ہوا۔بصرہ سے واپس قادیان پہنچ کر میں نے شدھی کی تحریک اور وقف زندگی یہ پروگرام بنایا اکہ ایران میں آبادان آئیل کمپنی میں کام کیا جائے کیونکہ وہاں ان دنوں فٹر کی ماہوار تنخواہ تین صد روپیه تھی مگر گھر والوں کے روکنے پر قادیان میں ہی فضل کریم صاحب کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔ماہ ستمبر ۱۹۲۱ء تا ماہ مارچ ۱۹۲۳ء تک ان کے پاس کام کیا۔اسی دوران شردھانند آریہ نے آگرہ سے غالبا یہ اشتہار دیا کہ اگر آریہ سماج چار لاکھ روپیہ اکٹھا کر کے مجھے بھیج دیں تو میں ساڑھے چار لاکھ ملکانہ مرد و زن بچوں کو آریہ بنا سکتا ہوں۔جب یہ اشتہار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں پہنچا تو حضور کو سخت قلق ہوا اور آپ نے وہ اشتہار خطبہ جمعہ میں پڑھ کر سنایا اور اعلان کیا کہ ہماری جماعت اب میدان میں نکلے اور تین ماہ خدا تعالیٰ کی خاطر وقف کرے اور اپنے ہی کرایہ اور کھانے کے بندوبست پر یوپی کے علاقہ جہاں بھی اس کا تعین کیا جائے رہ کر ان لوگوں کو دین حق سے اچھی طرح وابستہ کرے۔چنانچہ جو لوگ اس کام کے لئے تیار ہوں وہ بہت جلد اپنی درخواستیں بھیج کر جانے کے لئے تیار رہیں۔حضور کا یہ اعلان سنتے ہی سینکڑوں مخلصین نے درخواستیں دیں۔میں نے بھی والد صاحب سے اجازت لے کر درخواست دے دی۔میری اس درخواست کا سن کر والده صاحبه بهت گھبرائیں کیونکہ کسی عورت نے بتا دیا تھا کہ جہاں یہ لوگ جائیں گے وہاں ہندوؤں سے جھگڑے ہوں گے اور وہاں ہندو کثرت سے ہیں۔نا معلوم یہ کہاں مارے جائیں۔عورتوں کے دل کمزور ہوتے ہیں۔اسی لئے آپ بھی گھبرا گئیں۔میں نے آپ کو بڑی محبت سے سمجھایا کہ خدا نے اس جگہ سے ہمیں بچائے رکھا جہاں ہم گورنمنٹ کی نوکری میں صرف جنگ کرنے کے لئے ہی گئے تھے اور یہ تو خدا تعالٰی