میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 57 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 57

45 کیا کہ یہ فٹر کنارہ کے ہیں یا پانی کے؟ اس نے جواب دیا کہ حضور کنارہ کے۔جنرل صاحب نے کہا نہیں نہیں یہ نہیں جائیں گے۔صرف پانی کے فٹ ہمراہ لے جاؤ اور ہمیں جنرل صاحب نے جہاز سے باہر آنے کا حکم دیا۔بعدہ پانی کے فٹ آگئے اور جہاز روانہ ہو گیا۔رات دو بجے کے قریب اطلاع آئی کہ دشمن نے جہاز غرق کر دیا ہے اور ایک آدمی بھی زندہ نہیں بچ سکا۔ہم نے خدا تعالٰی کا شکر ادا کیا کہ ہماری ابھی زندگی باقی تھی۔غرضیکہ جس جگہ میں نے بیرک نمبر 1 میں جا کر بستر رکھا تھا وہیں میں نے اپنی ساری سرکاری سروس کا عرصہ گزار دیا۔ہاں ایک بات یاد آئی کہ جب رمضان کا مہینہ نزدیک تھا تو چند مسلمان معزز لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے که مولوی صاحب ہم جانتے ہیں کہ آپ نیک بھی ہیں اور عالم بھی۔ہماری یہ خواہش ہے کہ آپ ہمارے امام کے پیچھے صرف ایک نماز پڑھ لیں تو ہم آپ کو اپنا امام مقرر کر لیں گے اور آپ ہی تراویح بھی پڑھائیں گے خواہ کوئی پڑھے یا نہ پڑھے۔ہر ایک مسلمان سے ہم پانچ روپے وصول کر کے آپ کو دیں گے اور جو امیر آدمی ہیں ان سے زیادہ بھی وصول کریں گے اور اس طرح یہاں نو صد آدمیوں سے آپ کو مفت میں پانچ چھ ہزار روپیہ مل جائے گا۔میں نے کہا خدا تعالٰی نے قرآن کریم میں یہ دعا سکھائی ہے کہ متقیوں کے امام بننے کی کوشش کیا کرو۔لیکن مجھے یقین نہیں کہ یہ متقی ہیں تو پھر میں ان کا امام کیسے بنوں۔اور اگر برو پسینہ کے لالچ میں ایسا کروں تو خدا تعالٰی عید سے ایک دن قبل ہی مجھے وفات دے سکتا ہے۔ایسی صورت میں یہ روپیہ کہاں جائے گا اور میں کہاں جاؤنگا۔یہ سن کر مایوس ہو کر وہ واپس چلے گئے۔غرضیکہ جولائی ۱۹۲۱ء کو میں بخیریت واپس فلوریان پہنچ گیا۔الحمد للہ۔خدا تعالی کی تائید و نصرت ہر قدم پر دیکھی اور حضرت مسیح موعود کی ہدایات جو دعا کے متعلق انہوں نے ہمیں دی ہیں ان پر عمل کرنا ہر رنگ میں اور ہر حالت میں