میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 50 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 50

40 لے آئے تھے وہ کہنے لگے کہ گائے ہماری مقدس چیز ہے اس لئے اسے ذبح کرنے سے ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے۔میں نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے جو جانور حلال ہیں جب آپ ان کو جھٹکا کے ذریعے مارتے ہیں تو انہیں بھی بہت دکھ ہوتا ہے۔کہنے لگا کہ اگر یہ بات ہے تو ہم جھٹکا نہیں کریں گے آپ بھی گائے ذبح نہ کریں۔میں نے کہا کہ اس کا جواب تو ہم آپس میں مشورہ کر کے ہی دے سکتے ہیں۔سکھ اور ہندو منتیں کرنے لگے کہ ابھی مشورہ کر لو ہم نے اب فیصلہ کر کے ہی جاتا ہے۔مسلمان بھی وہی بیٹھے تھے کہنے لگے کہ جو بھی فیصلہ مولوی صاحب کریں ہمیں منظور ہے۔دوسری طرف سکھ کہنے لگے کہ جو فیصلہ بھی موادی صاحب کردیں وہ ہمیں بسر و چشم منظور ہو گا۔میں نے کہا کہ اگر میرا فیصلہ دونوں فریقوں کو منظور ہے تو میرے پاس اس کی تحریریں آجانی چاہئیں اور اس پر فریقین کے معززین کے دستخط ہوں۔چنانچہ اسی وقت ہی فریقین نے تحریریں لکھ دیں۔میں نے تقریر کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ اس فتنہ کی ابتداء سکھوں کی طرف سے ہوئی ہے اور مسلمانوں نے بعد میں گائے ذبح کرنے کی منظوری لی ہے اس لئے میرا یہ فیصلہ ہے کہ سکھ بھائی بطور تاوان تین صد رو پید مسلمانوں کو ادا کریں اور ساتھ ہی یہ تحریریں لکھ دیں کہ اگر آئندہ سکھ کیمپ میں جھٹکا کریں تو مسلمانوں کو اجازت ہو گی کہ وہ بھی گائے ذبح کر لیا کریں۔دوسری طرف مسلمان یہ تحریر لکھ دیں کہ اگر ہمارے سکھ بھائی اس معاہدہ کی پابندی کریں گے تو ہم ان کی دل شکنی کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیمپ میں گائے ذبح نہیں کریں گے اور اس تین صد روپیہ سے سب کا مشترکہ جلسہ کیا جائے جس میں ہر مذہب کا نمائندہ اپنے اپنے مذہب کی صرف خوبیاں بیان کریں اور کسی دوسرے مذہب پر اعتراض نہ کریں اس جلسہ میں اس روپیہ کی مٹھائی اور سوڈا واٹر کی بوتلوں کا انتظام کیا جائے گا تاکہ سب دوستوں کے آپس میں دل صاف ہو جائیں۔فریقین نے