میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 20
14 قادیان سے آریوں کا اخبار شجھ قادیان کے آریوں میں طاعون کی وباء پختک نکلا کرتا تھا۔اس کے ایڈیٹر سو مراج اور معاون اچھر چند بھگت رام تھے۔یہ اخبار احمدیت کے خلاف بہت زہر اگتا رہتا تھا۔جب یہ بد زبانی حد سے بڑھ گئی تو حضرت مسیح موعود نے ایک اشتہار دیا۔کہ قادیان کے آریوں کا اور ہمارا رب اللہ تعالٰی ہی انصاف کرے گا۔طاعون کے دنوں میں میری چچی کو بھی طاعون ہو گئی تھی۔چنانچہ دوائی لینے کی غرض سے جب میرے چا جان بازار گئے تو وہاں اچھر مذکور نے کہا کہ اللہ یار صاحب ہاتھ میں یہ بوتل کیوں پکڑی ہوئی ہے۔چچا جان نے جواب دیا کہ میری بیوی طاعون سے دوچار ہے۔دوا لینے جا رہا ہوں۔اس پر اچھر چند نے طنزا" کہا کہ تم بھی کشتی نوح میں سوار ہو جاؤ تمہیں تو کسی دوائی کی ضرورت نہیں۔چا جان نے جواب دیا کہ ہم انشاء اللہ تعالٰی کشتی نوح میں سوار ہوں گے مگر تم اپنے گھڑے تیار کر لو اور یہ جواب دے کر وہاں سے چل دیئے۔چونکہ چچا جان نے وہ تفسیر سنی ہوئی تھی کہ جب حضرت نوح اور ان کے ساتھی کشتی میں سوار ہو گئے تو منکرین نے گھڑوں پر تیرنا شروع کر دیا تھا۔اس وقت خدا تعالیٰ نے تیز ہوا چلا دی جس کی وجہ سے گھڑے آپس میں ٹکرا کر ٹوٹ گئے۔اس طرح تمام منکرین غرق ہو گئے تھے۔لہذا چچا جان نے برجستہ جواب دیا تھا اور بعد میں دوسرے ہی دن سو مراج کی بیوی طاعون سے مر گئی تھوڑے وقفہ کے بعد مستو کے مرنے کی خبر آگئی۔پھر سو مراج کا اکلوتا بیٹا بھی مر گیا۔اس طرح چند ہی دنوں میں سو مراج اس کی بیوی اس کا بیٹا مستو ، اچھر چند اور اس کی بیوی اور سب بچے ، بھگت رام اس کی بیوی اور بچے حتی کہ ان کے پریس کو چلانے والا عبدل اور اس کا بھائی جو چوختہ کشمیری کے لڑکے تھے وہ بھی مر گئے اور دونوں ایک ہی قبر میں دفن کئے گئے۔ہندو محلہ اور غیر احمدیوں کے محلہ میں سخت