میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 225 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 225

213 جائیں اور انہیں خطرے کے حالات سے آگاہ کریں اور کہیں کہ ہماری جماعت بہت تھوڑی ہے اور ہم ہنگامہ آرائی میں حصہ نہیں لینا چاہتے اس لئے آپ براہ مہربانی یا تو تھانہ میں دفنانے کے لئے کوئی جگہ تجویز کر دیں اور یا پھر گھر پر ہی دفن کرنے کی اجازت دیں۔میاں صاحب نے اسی طرح جا کر SP صاحب کے سامنے رپورٹ کر دی جو ڈوگرہ قوم سے تعلق رکھتے تھے اور کہنے لگے کہ میں یہ معاملہ گورنر صاحب کے پاس پیش کرتا ہوں جو وہ فیصلہ کریں اس پر عملدرآمد کر لینا۔گورنر صاحب نے ان کی رپورٹ پر حکم دیا کہ دونوں فریقوں کے سرغنوں کو بلایا جائے۔احراریوں کی طرف سے حافظ عبدالرحمن صاحب اور ہماری طرف سے میاں صاحب کو بلوا لیا گیا۔ہمارے پریذیڈنٹ صاحب نے جب یہ دیکھا کہ ان کی طرف سے ایک عالم بلوایا گیا ہے تو گور نر صاحب سے کہنے لگے کہ مجھے اجازت دیں کہ میں بھی اپنے مبلغ صاحب کو بلوالوں۔اجازت ملنے پر وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ہم تینوں گورنر صاحب کی سامنے کی جانب کرسیوں پر بیٹھ گئے۔گورنر صاحب مجھ سے یہ سوال کرنے لگے کہ کیا وجہ ہے کہ یہ آپ کی میت دفن نہیں کرنے دیتے۔میں نے کہا جناب عالی یہ سوال مجھ سے نہیں کیا جاسکتا۔ہم تو دفن کرنا چاہتے ہیں اور ہم نے پہلے بھی میتیں وہیں دفن کی ہیں۔یہ سوال تو ان سے پوچھیں۔گورنر صاحب نے یہی سوال حافظ صاحب پر دہرایا۔حافظ صاحب کہنے لگے کہ یہ ہمیں کافر کہتے ہیں جب کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور انہیں کافر سمجھتے ہیں لہذا مسلمانوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کسی کافر کی میت ہم اس قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔گورنر صاحب نے مجھے جواب دینے کا حکم دیا میں نے کہا جناب عالی جہاں ہم ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں وہاں ہم سب کے محلہ جات اکٹھے ہیں۔جب ان کا کوئی فرد مر جاتا ہے تو ہم افسوس کے لئے جاتے ہیں اور جب ہمارا کوئی فرد فوت ہو جاتا ہے تو یہ افسوس