میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 194
182 نے اس آریہ کلرک کو اپنے ڈیرے پر ہی بلوالیا اور اس سے کہنے لگے کہ یہ مولوی صاحب ہمارے مہمان آئے ہیں۔ان سے کوئی بات پوچھیں تو ہم بھی سن لیں۔آزید صاحب بولے کہ مولوی صاحب یہ بتائیں کہ جب آپ کے یوسف نبی کو زلیخا جیسی پری روش نوجوان قسم کی حور جنت ایک مزین مکان میں اکیلی لے کر گھس گئی جب کہ اس کی نیت بھی اچھی نہ تھی اور حسن و جمال بھی پورے جوبن پر تھا تو کیا اس علیحدگی کی حالت میں کوئی نوجوان بچ سکتا ہے؟ اگر کوئی بچ سکتا ہے تو اس کی کوئی مثال دیں۔میں نے کہا سیتاجی پری روش آریہ سورگ کی خاص دیوی بادشاہ روان جیسا بد کار اپنی بہن کا بدلہ لینے کے لئے اٹھا کر اپنے محل میں لے کر چلا جائے تو کیا اپنی من مانی کئے بغیر رہ سکتا ہے اور پھر بیتا جیسی کو پاکدامن رہنے کا موقع دے سکتا ہے۔اگر بیتا بیچ سکتی ہے تو خدا تعالیٰ کا نبی بننے والا مرد ایسی عورت سے کیوں نہیں بچ سکتا۔آریہ کے سب قصے ہی من گھڑت ، منو شاستر بھی من گھڑت ، دید بھی من گھڑت ، ستیارتھ پرکاش بھی من گھڑت۔یہ تھانے کی ضمنیاں نہیں ہیں یہ مذہبی ستکیں ہیں۔تھانیدار صاحب کسی سناتنی پنڈت کو جلدی سے بلوائیے۔آریہ صاحب بولے کہ میں کوئی لیکچرار نہیں ہوں۔تھانے دار صاحب آپ نے مجھے خوامخواہ پھنسا لیا ہے۔یہ تو کوئی مرزائی مولوی صاحب ہیں۔دوسرے مولویوں کو تو ہماری کتب کے نام بھی نہیں آتے۔غرضیکہ نمستے کہہ کر بھاگ نکلے۔تھانیدار صاحب و دیگر سامعین میری باتیں سن کر بہت خوش ہوئے۔ایک دفعہ پھر میں تھانہ میں گیا۔میں نے سمجھا کہ تھانیدار صاحب اندر ہیں۔میں نے جا کر السلام علیکم کہا۔وہاں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب بیٹھے تھے۔بولے آپ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ احمدی مسلمان ہوں۔کہنے لگے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ پستول سے آپ کا کام تمام کر دوں۔میں کٹر احراری ہوں بس باہر چلے جاؤ۔میں نے چونکہ کریام پہنچا تھا اس لئے باہر آگیا