میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 164 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 164

152 متعددة یعنی یہ وہ پیش گوئی ہے جس میں مرے گا تو ایک ہی مگر لوگ شور ڈالتے رہیں گے یعنی جس طرح کتا بھونکتا ہے اسی طرح ملاں بھونکتے رہیں گے اور بھی بہت سی ذوقیہ باتیں ہوتی رہیں اور بالآخر مناظرہ ختم ہو گیا۔ابھی پہلے مناظرے کو تھوڑا پیر بدیع الزمان شاہ پونچھی کا شوق مناظرہ ہی ہے عرصہ ہی ہوا تھا کہ پیر زمان شاہ پونچھ والے کو خیال پیدا ہوا کہ میرے مریدوں میں دن بدن کمی پیدا ہو رہی ہے اور اب شہرت حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مرزائیوں کو مناظرے کا چیلنج دے دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے چار کوٹ پہنچ کر احمدیت کے خلاف خوب زہر اگلا اور یہ بڑ بھی ہانک دی کہ میرے مقابلہ کے لئے سید ولی اللہ صاحب یا احمدیوں کے خلیفہ صاحب قادیان سے آئیں۔میں انہیں کرائے کے دو صد روپے بھی دونگا اور مجھے سے مقابلہ کر لیں۔ہماری جماعت کے احباب نے ان سے کہا کہ اگر ہمارا مبلغ آپ کے اعتراضوں کا جواب نہ دے سکا تو پھر ہم قادیان سے کسی اور کو منگوالیں گے۔آپ فکر نہ کریں اور ساتھ ہی پیر صاحب کے مناظرہ کا چیلنج قبول کرتے ہوئے میری طرف ایک آدمی روانہ کر دیا کہ مناظرہ کے لئے بہت جلد تشریف لے آئیں۔میں نے کہا کہ عید قریب ہے اس لئے مناظرے کے دن کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا۔خیر جانے کے لئے تیار بھی ہو گیا۔گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے کبھی مناظرہ نہیں سنا ہم بھی ساتھ جانا چاہتے ہیں۔غرضیکہ ہم گھوڑوں پر سوار ہو کر بر تو کل خدا چل پڑے۔رات دھر سال رہے اور اگلے دن گیارہ بجے چار کوٹ پہنچ گئے۔دوسرے دن شاہ محمد صاحب نمبردار کی حویلی میں مناظرہ ہونا قرار پایا تھا۔پبلک پہلے دن ہی بہت اکٹھی ہو گئی ہوئی تھی۔اس لئے میں نے کہا کہ نماز ظہر اور عصر اکٹھی پڑھ لیتے ہیں کیونکہ بعد وقت تھوڑا رہ جائے گا۔جب ہم نمازیں جمع کر رہے تھے تو پیر صاحب نے شور