میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 108 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 108

96 اپنا بستر گھر سے چوپال پر ہی منگوا لیا اور لڑکی کو گھر بھیج دیا۔پنڈتوں کو گھر سے گندم کا آٹا اور گھی وغیرہ منگوا دیا۔انہوں نے بھورے مینی" کو نکلوں پر آٹے کے پیڑے بنا کر رکھ دیتے ہیں اور پک جانے پر گڑ اور گھی ملا کر کھا لیتے ہیں) بنا کر کھالئے۔ادھر نب لڑکی میرے گھر پہنچی تو میری بیوی نے میرے پیغام بھیجنے پر لڑکی سے پوچھا کہ آپ کیا کھائیں گی۔لڑکی ہندی پڑھی ہوئی تھی۔کہنے لگی کہ میں نے جب مولوی صاحب کے ہاتھ سے پانی پی لیا ہے تو اب ان کے گھر کی پکی ہوئی روٹی کھا لینے میں کیا حرج ہے؟ اگر ہو تو مجھے بھلکیہ (چپاتی) دیدو اور سائن کیا ہے؟ اس نے کہا کلیہ (یعنی گوشت۔اس لڑکی نے خوب پیٹ بھر کر گوشت روٹی کھائی وہ کئی دنوں سے بھوکی بھی تھی۔خیر دن چڑھا ہم نماز سے فارغ ہو کر چوپال پر بیٹھ گئے تو پنڈتوں نے میرا بہت شکریہ ادا کیا اور پچیس روپے میرے سامنے رکھ دیئے میں نے کہا پنڈت صاحب ہم لوگ خدا کی ساری مخلوق کے ہمدرد ہیں۔میں حکیم نہیں ہوں۔خدا تعالٰی سے دعا کرتا ہوں وہ منظور کر لے تو اس کی مہربانی ہو جاتی ہے ورنہ ہمارا کوئی زور نہیں ہے۔جیسے وہ آپ کی بچی ہے ویسے ہماری بچی ہے۔میں نے کبھی کسی سے کچھ نہیں لیا اور نہ اب لوں گا۔اس رقم سے آپ اس بیوہ کی مدد کر دیں جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو اس کا آپ کو فائدہ پہنچ جائے گا۔ان پر اس بات کا بہت نیک اثر ہوا۔لڑکی تو گھر سے ناشتہ کر آئی اور اگر آواز دی کہ اب چلیں۔لڑکی نے میرے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر سلام کیا اور پنڈت صاحب بھی سلام کر کے چلے گئے۔انہوں نے اپنے گاؤں میں جا کر ہماری بزرگی اور نیکی کا خوب پر چار کیا۔جس دن لڑکی کی بارات آئی اس دن اس کا بھائی گھوڑی لے کر میرے پاس مجھے لینے آیا۔میں نے بھی اپنا تبلیغی فائدہ ملحوظ رکھ کر اس کے ساتھ جانا پسند کیا۔وہاں لے جا کر انہوں نے میری بہت آؤ بھگت کی غرضیکہ بہت شہرت ہوئی۔الحمد للہ