میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 104
92 کرنا چاہئے قرآن اور دید کا مقابلہ ہے کہ قابل قبول اور عالمگیر تعلیم کس کی ہے یہ علمی مضمون ہے اب بریلی والے مولوی صاحب مناظرہ کریں۔مولوی صاحب بولے کہ توبہ میں ان بے دین آریوں کے مکروہ چہرے بھی دیکھنا پسند نہیں کرتا چہ جائیکہ ان نابکاروں کو مخاطب کر کے باتیں کروں۔یہ دیو بندی ہی جائیں جنہوں نے مناظرہ کی طرح ڈالی ہے اب وقت آیا تو پیچش شروع ہو گئی ہے۔یہ سن کر دیو بندی صاحب کو پھر غصہ آیا مگر میرے روکنے پر رک گئے۔میں نے پھر امام الدین صاحب سے کہا کہ اب پھر آپ ہی اس وقت کو سنبھالیں تو وہ بولے کہ مولوی صاحب یہ آپ ہی کا کام ہے اور آپ نے ہی کرنا ہے آپ تیاری کر لیں۔میں نے کہا کہ مناظرہ شروع ہونے میں قریب ایک گھنٹہ باقی رہتا ہے اور اب میں تیاری کروں۔اچھا جو خدا چاہے گا ہو گا۔مناظرہ کی شرائط پڑھیں احتیاط چند کتابیں اپنے ہمراہ رکھی ہوئی تھیں۔کچھ اپنی نوٹ بک پر نظر دوڑائی اور دعا میں لگ گیا۔آریہ مناظر کا نام سوری کولہ مل تھا اور دیہات میں وہی مناظرے اور لیکچر کے کام کیا کرتا تھا۔وہاں ہندو آریہ پہلے ہی کافی تعداد میں تھے اور مسلمان مکانے بھی کافی تعداد میں جمع ہو میرے ایک واقف ہندو دوست تھے جن کی بات سب لوگ متوجہ ہو کر سنتے تھے اور سبحان اللہ کہا کرتے تھے کیونکہ ان کی آواز اچھی تھی۔آریہ مناظر نے اٹھ کر اسلام پر بعض اعتراض کئے اور وید کے منتر سے نہیں بلکہ ادھر ادھر کی ہندی کتابوں سے ویدک تعلیم کو عالم گیر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی۔میں نے اپنی ٹرن میں اس کے اسلام پر کئے ہوئے اعتراض کے جواب دیئے اور کچھ اس سے مطالبات کئے اور کہا کہ آپ ادھر ادھر سے ادھار نہ کھائیں۔دید کا دعوئی پیش کریں کہ میں ساری دنیا کے لئے ہوں۔جب دید اس بات کا دعویدار ہی نہیں تو پھر آپ کی وکالت کا کیا فائدہ؟ اگر دید ساری دنیا کے لئے ہوتا جیسے یہ بتایا جاتا ہے کہ جب گئے۔