مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن

by Other Authors

Page 7 of 25

مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 7

سعودی حکمرانوں کے حضور طواف شروع کئے اور شیخ عبد العزیز عبد اللہ بن باز ساز باز کر کے بالآخر تحفظ ختم نبوت“ کے نام پر مالی امداد کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گیا جس نے اس کے ادعائے علم قرآن کی قباپارہ پارہ کر ڈالی۔مجد د اسلام حضرت امام غزالی نے اپنی شہرہ آفاق تالیف احیاء علوم الدین“ جلد ۲ کے چھٹے باب میں سلاطین اور حکمرانوں سے مخالطت رکھنے والے نام نہاد علماء کی مذمت میں آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث مبارک دی ہے کہ : ابغض القراء الى الله تعالى الذينَ يَزُورُونَ الأَمَرَاء (روایت حضرت ابو ہریرہ) علماء میں سے بدترین وہ ہیں جو امراء کے پاس جاتے ہیں۔اسی طرح حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ : العلماء أمناء الرسل على عباد الله ما لم يخالطوا السلطان فاذا فعلوا ذلك فقد خانوا الرسل فاحذروهم واعتزلوهم - ( صفحه ۹۰۲ ناشر دار الكتب العربي ) یعنی علماء اللہ تعالیٰ کے بندوں پر رسولوں کے امین ہیں جب تک سلاطین سے میل جول نہ رکھیں اور جب ایسا کریں تو انہوں نے رسولوں کی خیانت کی ان سے بچو اور کنارہ کش ہو جاؤ۔چنیوٹی صاحب کی ضیاء الحق آمر کی جبہ سائی کے نتیجہ میں ڈاکٹر عبد اللہ بن زاید وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی اس کے مدرسہ چنیوٹ آئے۔تو اس نے اپنے سپاسنامہ میں پہلے تو یہ افتراء کیا کہ احمدیوں کے نزدیک معاذ اللہ ربوہ مکہ مدینہ سے زیادہ مقدس شہر ہے“۔( سپاسنامہ صفحہ (۳)۔ازاں بعد سعودی عرب کے گماشتہ اور 7