مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 6
میں نے ہی اسے راولپنڈی بلایا تھا۔راولپنڈی کے لوگ دیندار اور جذباتی تھے انہوں نے غلام محمد کو راجہ بازار راولپنڈی کی مسجد کا امام مقرر کیا اور اس نے وہاں اپنے نام سے غلام محمد ہٹا کر غلام اللہ رکھ لیا کیونکہ اس خانہ خراب کو وہابیوں نے مالی امداد شروع کر دی اور یہ حنفیت کے لباس میں وہابیت کا پرچار کرتا رہا مجھے کیا معلوم کہ میر الگایا ہوا پورا پھولوں کی بجائے خاردار، گندہ، پلید پھل لائے گا۔آخر کار میں نے اس سے تعلقات منقطع کر لئے۔سال ۱۹۸۰ء میں اس نے اپنی ایک جماعت بنائی اور پشاور آکر پریس کانفرنس کی۔میں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ میں مولانا غلام اللہ کو گوشئہ گمنامی سے نکال کر راولپنڈی لایا تھا۔اس نے اخبار نویسوں کے سامنے اقرار کیا اور پھر وظیفہ لینے وہابی حکومت سعودی عرب گیا اور وہاں ہی واصل فی النار ہوا۔رسول اکرم ﷺ کا گستاخ تھا۔مرتے وقت شکل بگڑ گئی۔کسی کو اس خبیث کا منہ تک نہ دکھایا گیا۔۔۔۔(یادداشتیں حصہ چہارم - صفحه ۸۹، ۹۰ از سید عبد اللہ شاد۔مطبوعہ پشاور ) حافظامی خورد، رندی کن و خوش باش ولی دام تزویر مکن چوں دگراں قرآن را چنیوٹی صاحب اپنے شیخ کے نقش قدم پر اس عبرتناک روداد سے یہ حقیقت پوری طرح بے نقاب ہو جاتی ہے کہ ملا چنیوٹی صاحب کے فضیلۃ الشیخ کا قرآن مجید اور اس کے حقائق واسرار سے قطعاً کوئی تعلق نہ تھا بلکہ سورۃ آل عمران آیت ۱۸۸ کے مطابق تعلیم القرآن“ کے نام سے مدرسہ قائم کر کے سعودی عرب سے روپیہ بٹورنے کا کاروبار بنار کھا تھا۔بعینہ یہی صورت شاگر در شید“ نے اختیار کی۔پہلے ۱۹۵۴ء میں ایک مدرسہ قائم کیا پھر 6