مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 9
امیہ پنجاب کے ناظم اعلیٰ نے الزام لگایا کہ مولوی منظور احمد چنیوٹی نے اسمبلی میں منفی کردار ادا کر کے اہلیان چنیوٹ کو شر مندہ کیا ہے۔وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ختم نبوت کا لیبل استعمال کر کے مبلغین ختم نبوت کو مجروح کر رہے ہیں۔(امروز ۱۳ جون ۱۹۸۵ء) اس ضمن میں روزنامہ ”حیدر“ راولپنڈی نے یکم نومبر ۱۹۸۸ء کی اشاعت میں حسب ذیل خبر شائع کی۔پنجاب اسمبلی میں مولانا منظور چنیوٹی کا کردار ملت اسلامیہ کی رسوائی کا سبب بنا (ریوه ) ( نمائندہ حیدر)۔خطیب مسجد احرار مولانا اللہ یار ارشد اور قاری محمد یامین گوہر امیدوار صوبائی اسمبلی نے گزشتہ روز چنیوٹ میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ختم نبوت کے نام کو بیچ کر قوم سے ووٹ حاصل کئے اور پنجاب اسمبلی میں جا کر جوند موم کردار ادا کیا وہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے رسوائی کا سبب بنا۔انہوں نے کہا کہ یہ شخص مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے۔اور فتوی بازی اس کا مشن ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم کے ساتھ یہ دھوکہ بازی ہم ہر گز نہیں چلنے دیں گے۔مولانا اللہ یار ارشد نے کہا کہ جھوٹ اس کا مشن ہے، دھو کہ اس کا پیشہ ہے۔اور صوبائی اسمبلی میں معافی مانگ کر اس شخص نے ختم نبوت کے پروانوں کے سر جھکا دئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے نام پر قوم سے چندہ بٹور کر اس نے اپنی ذاتی جاگیریں اور ڈیرے بنائے ہوئے ہیں۔انہوں نے واشگاف الفاظ میں انہیں وارننگ دی کہ سیاسی فتوی بازی بند کردو ورنہ تمہار ا سارا حدود اربعہ قوم کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا“۔9