حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 40 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 40

43 مومنانہ فراست سے یہ معلوم کر لیا کہ آپ ہی مسیح زماں اور مہدی دوراں ہیں۔چنانچہ آپ پیدل جہلم سے قادیان تشریف لے گئے۔پھر قادیان سے ہوشیار پور جا کر حضور کی زیارت کی اور بیعت کے لئے عرض کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام دو شہتیر ٹوٹ گئے“ کے آپ مصداق بنے۔آپ کی اور حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی وفات کا حضور کو غیر معمولی صدمہ ہوا۔ان کی وفات پر آپ جیسے قادر الکلام اور خالصہ دین کی خدمت رکھنے والے علماء پیدا کرنے کا خیال آیا اور اس غرض سے جنوری 1906ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام میں شاخ دینیات کا آغاز ہوا جو بعد میں مدرسہ احمدیہ 1909 ء ' اور پھر جامعہ احمدیہ 1928ء کی شکل اختیار کر گئی اور آج خلافت خامسہ کے بابرکت دور میں اس کی شاخیں بھارت، پاکستان، افریقہ کے ممالک، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کے علاوہ کینیڈا، انگلستان اور جرمنی میں قائم ہو چکی ہیں۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان خاص صحابہ میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہے جن کا نام حضور نے اپنے 313 رفقاء میں شامل فرمایا۔چنانچہ انجام آتھم میں 313 صحابہ کی فہرست میں 84 ویں نمبر پر آپ کا نام درج ہے۔84۔مولوی برہان الدین صاحب جہلم (ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد 11 ص: 326) اس فہرست کے درج کرنے سے قبل خود حضور علیہ السلام ان صحابہ کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق وصفار کھتے ہیں اور حسب مراتب جس کو اللہ