حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 36
39 ہوگئی۔(ان دنوں انگریز کی حکومت تھی اور مقدمات کا فیصلہ جلد ہو جایا کرتا تھا۔) طبیعت کا ایک سادہ انداز (روز نامه الفضل 22 رمئی 1996 ء ص 4) مولانا صاحب کی طبیعت سادہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملائیت سے پاک تھی۔چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ آپ کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ ان کے محلہ میں ہرڑ پوپو آیا جو لوگوں کو ان کی قسمت بتاتا پھرتا تھا۔مولوی صاحب نے اس کا انسداد کرنا چاہا اور ارادہ کیا کہ کسی طرح اس کی کرکری کی جاوے تا کہ یہ آنا جانا چھوڑ دے۔ایک دن مولوی صاحب جن کا قد وقامت بڑا نہ تھا چادر اوڑھ کر بیٹھ گئے اور اس کو اپنا ہاتھ دکھا کر کہا کہ میری قسمت دیکھو کیسی ہے۔ہرڑ پوپو نے انہیں عورت سمجھ کر کہا تیری قسمت بہت خراب ہے۔تیرے خاوند نے جو باہر گیا ہوا ہے دوسری بیوی کر لی ہے اور اب اس کا ارادہ واپس آنے کا نہیں ہے۔انہوں نے رونی صورت بنا کر الحاج سے کہا کہ اب تو ہی کوئی تدبیر بتا کہ پھر میں کیا کروں اور میری یہ گردش کس طرح دور ہو۔اس نے کچھ کپڑا وغیرہ مانگا کہ یہ دے دو تو جلدی آجائے گا ور نہ اس کا ارادہ آنے کا بالکل نہیں ہے۔اس پر مولوی صاحب جھٹ منہ سے کپڑا ہٹا دیا اور لمبی سی داڑھی دکھا کر اور اس کے ہاتھ کو مضبوط پکڑ کر کہنے لگے کہ کیا اب اس نے آنا ہی نہیں؟۔یہ حالت دیکھ کر وہ ہرڑ پوپو ایسا شرمندہ ہوا کہ پھر کبھی اس محلہ میں نہ آیا بلکہ خیال ہے کہ اس نے اپنی ساری قوم میں اعلان کر دیا ہو گا کہ کوئی ادھر نہ جائے کیونکہ اس کے بعد پھر کوئی اس محلہ میں نہ آیا۔“ الفضل 17 اپریل 1922ء ص 5-6)