حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 22 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 22

25 خوشی کی انتہا نہ تھی۔حضور نے جب جہلم ورود فرمایا۔آپ اس وقت ضعیف تھے۔آپ حضور کی سواری کے آگے آگے عجیب مجذوبانہ حالت میں چل رہے تھے۔آپ بار بار لوگوں سے کہتے جاتے تھے۔پہلی کے گھر نارائن آیا یعنی ایک چیونٹی ( معمولی اور غریب ) کے گھر خدا کا بروز آیا ہے۔( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد دوم ص 265 ایڈیشن 2007ء) جہلم ریلوے اسٹیشن سے کچہری تک راستے میں لوگوں کا اثر دہام تھا۔تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔مہدی آخر الزماں کی زیارت کے لئے اردگرد کے شہر و دیہات سے بکثرت لوگ آئے ہوئے تھے۔آپ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے امام الزماں کو شناخت کر کے بیعت کی جو اس شوق زیارت میں سڑکوں، بازاروں اور ریلوے اسٹیشن پر جمع تھے۔قبول احمدیت کی کیفیت حضور یوں بیان فرماتے ہیں: ”جب میں جہلم کے قریب پہنچا تو تخمینا دس ہزار سے زیادہ آدمی ہوگا کہ وہ میری ملاقات کے لئے آیا۔اور تمام سڑک پر آدمی تھے۔اور ایسے انکسار کی حالت میں تھے کہ گویا سجدے کرتے تھے اور پھر ضلع کی کچہری کے ارد گرد اس قدر لوگوں کا ہجوم تھا کہ حکام حیرت میں پڑ گئے۔گیارہ سو آدمیوں نے بیعت کی اور قریباً دوسو کے عورت بیعت کر کے اس سلسلہ میں داخل ہوئی اور بہت سے لوگوں نے ارادت اور انکسار سے نذرانے دیئے اور تھنے پیش کئے اور اس طرح ہم ہر ایک طرف سے برکتوں سے مالا مال ہو کر قادیان میں واپس آئے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 ص 264) ایک افواہ کا ازالہ سفر جہلم کاہی واقعہ ہے کہ مخالفین نے یہ بات پھیلادی کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ