حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 16
19 ہے۔آپ نے فرمایا مجھے اس بات کا کچھ علم نہیں۔تھوڑی دیر کے بعد آپ کو لاہور سے ایک خط ملا جو کسی احمدی کی طرف سے تھا کہ آپ لا ہور آکر اس مولوی سے مناظرہ کریں مگر سفر خرچ نہ تھا۔آپ نے فرمایا مجھے خط تو ملا ہے لیکن کرایہ ساتھ نہیں پہنچا۔میں نے اپنے پاس سے آپ کو کرایہ ادا کر دیا جس پر آپ لاہور تشریف لے گئے۔جب آپ وہاں سے واپس ہوئے۔میں نے دریافت کیا کہ اس مناظرے کا کیا ہوا ؟ آپ نے فرمایا کہ جب میں وہاں گیا تو ایک آدمی کو میں نے ایک رقعہ لکھ کر دیا کہ میں بحث کے لئے حاضر ہوں۔آپ وقت مقرر کریں مگر ساتھ ہی اس آدمی کو یہ کہا کہ پہلے میرے رقعہ کا ذکر نہ کریں بلکہ مولوی صاحب کو کہنا کہ اگر دونوں احمدی مولویوں سے کوئی آجا تا تو آپ مباحثہ کر لیتے کوئی لڑائی تو تھی نہیں۔جب وہ کہہ دے کہ ہاں ہم ایک سے ہی گفتگو کر لیتے اس پر میر ارقعہ دے دینا۔جب وہ تبادلہ خیال پر آمادہ ہوا تو وہ رقعہ اس کو دیا گیا۔جس پر فوراً مولوی صاحب نے کہہ دیا کہ مجھے ایک ماتم پرسی کے لئے ضروری وزیر آباد جانا ہے۔وہاں سے واپسی پر میں مناظرہ کروں گا۔لوگوں نے کہا کہ اتنے روز سے تم بحث پر زور دے رہے تھے مرنے والا کبھی سے وزیر آبا دمیں مرگیا ہوگا اب اگر بحث کے بعد جاویں تو کیا نقصان ہے۔مگر وہ انکار پر مصر رہا اور سامنے نہ آیا۔“ ایک دلچسپ بحث۔۔۔صداقت کی شہادتیں مولوی مهر دین صاحب ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں۔میں ایک روز حسب معمول جہلم سبق کے لئے مولوی صاحب کے ہاں حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ آپ ڈپٹی راجہ جہاں دادخان کی کوٹھی پر گئے ہوئے ہیں۔میں۔ڈ پٹی صاحب کی کوٹھی پر پہنچا دروازے پر ان کا نو کر کھڑا تھا۔میں نے اس سے کہا کہ اندر جو لال داڑھی والا انسان (مولوی برہان الدین صاحب) بیٹھا ہے۔