حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 13 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 13

16 احسن صاحب فاضل امر و ہی بیٹھ گئے۔حضرت مولوی برہان الدین صاحب کے ایک شاگرد کی بیعت حضرت مولوی برہان الدین صاحب کے ایک شاگر دمولوی مہر الدین صاحب رفیق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام) چک پنیار (سرگودھا) بیان کرتے ہیں۔”میں لالہ موسیٰ سے سودا خرید نے جایا کرتا تھا میں ریلوے گارڈ روم میں ملازم تھا جس کی وجہ سے میں گوشت سبزی ڈبل روٹی وغیرہ خریدنے کے لئے روزانہ لالہ موسیٰ سے جہلم جایا کرتا تھا اور قرآن شریف کا ترجمہ اور صرف و نحو ان سے پڑھا کرتا تھا ہر روز سبق لیکر واپس آتا اور گاڑی میں ہی سبق یاد کر لیا کرتا تھا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق آپ سے دریافت کیا کہ مجھے بھی کچھ بتلائیں آپ نے فرمایا میاں کسی زمیندار کو کہ دیں کہ یہ روپیہ کھر ا ہے تو وہ اپنے پلے باندھ لیتا ہے میرے جیسے کو دیں تو وہ پرے جا کر پتھر پر مار کر دیکھتا ہے۔تم خود جا کر دیکھو پھر ایمان لانا۔پھر میں ان سے رخصت لے کر قادیان پہنچا تو مولوی برہان الدین صاحب بھی یہاں آئے ہوئے تھے۔تاریخ یاد نہیں مگر یہ اس وقت کا ذکر ہے کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم والی پیشگوئی کے پورا ہونے میں دودن باقی تھے۔مولوی حکیم فضل دین صاحب نے عرض کیا کہ حضور مہر الدین کی بیعت لے لیں حضور نے فرمایا ابھی نہیں۔حکیم صاحب نے اصرار کیا کہ حضور پھر مصروف ہو جائیں گے ابھی بیعت لے لیں۔مولوی برہان الدین صاحب نے کہا کہ حضور جس طرح فرماتے ہیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔چنا نچہ اس دفعہ میں بغیر بیعت کرنے کے واپس چلا گیا اور چار پانچ ماہ کے بعد اگست 1895ء میں دوبارہ آکر بیعت کی اس کے بعد میں عید قادیان آکر پڑھا کرتا تھا۔“