حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 12
15 اور پتوں کی آگ پر پانی گرم کر لیا جاتا اور اس سفوف میں ملالیا جاتا اور نمک مرچ ڈال کر اس سے روٹی کھالی جاتی۔کسی وقت سبزی کھانے کو جی چاہتا تو شہوت کی تازہ کونپلیں یا بیری کے تازہ اور کے پھل پکا کر بطو رسبری استعمال کرتے۔(ماہنامہ انصار اللہ ستمبر 1977ء ص 11) حضرت مولا نا برہان الدین صاحب جہلمی کی شخصیت جہاں ایک طرف نہایت عالمانہ علمیت کی حامل تھی وہاں آپ کی ذات کا خاصہ عاجزی، سادگی ، اخلاص اور حضرت مسیح پاک سے انتہا درجہ کی محبت بھی تھی۔جیسا کہ حضرت مصلح موعود نورَ اللَّهُ مَرْقَدَہ نے فرمایا کہ ” بہت ہی مستغنی المزاج انسان تھے۔آپ کی طبیعت کی اس خاصیت کے واقعات آپ کی سیرت کے بیان میں یکجا کر کے لکھ دیئے گئے ہیں جن سے آپ کی طبیعت کا یہ رنگ مزید احسن طور پر سامنے آئے گا۔1892ء کے جلسہ سالانہ میں شرکت حضرت مولوی صاحب بیعت کے بعد کثرت کے ساتھ قادیان تشریف لاتے تھے۔جلسہ ہائے سالانہ میں شرکت کرتے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے قرب میں رہتے۔1892ء کے جلسہ سالانہ میں حاضرین کی کل تعداد 327 تھی۔27 دسمبر کو جلسہ گاہ میں ایک اونچے چوبی تخت پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے لئے قالین بچھا دیا گیا۔حضور اس پر جلوہ افروز ہوئے اور چاروں طرف احباب فرش پر بیٹھے۔سامنے شمال کی طرف حضرت مولانا نورالدین صاحب اور مغرب کی طرف حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی اور گوشہ مغرب و جنوب میں حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی اور ان کے داہنی طرف حضرت مولانا سید محمد