حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 6 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 6

9 عجیب استدلال ہے کہ یہ حدیث قرآن کے مخالف ہے لہذا ضعیف ہے۔یہ حدیث قرآن کی تصدیق کرتی ہے لہذا یہ صحیح ہے۔خیر پہلے دن میں کچھ شرمندہ ہو کر واپس چلا آیا اور آپ کے علم قرآن کی کچھ قدرمیرے دل میں بیٹھی۔مگر رات سویا تو میرے نفس نے کہا کہ ”واہ برہان ! تم نے تو کسی جگہ اب تک پیٹھ نہیں دکھائی اور شکست نہیں مانی۔مرزا صاحب نیک اور بزرگ ہیں مگر عالم ہونا اور چیز ہے۔یہ مغل قوم کا فرد ہے کسی عالم گھرانے کا نہیں۔پھر گاؤں کا رہنے والا نہ کہ شہر کا باشندہ اور تم نے باقاعدہ استادوں سے علوم حاصل کئے ہیں اور پھر اب تک کئی میدان مارے ہیں۔کل اتفاقیہ طور پر چند کلمات مرزا صاحب کے منہ سے نکلے جو دل کو بھا گئے۔“ چنانچہ دوسرے دن خاص تیاری کر کے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔سوال جواب شروع ہوئے میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب نے میرے ارد گر د قرآن کا قلعہ لگا دیا۔یعنی چاروں طرف قرآن کریم کی دیوار بنادی میں حضور کی قرآن دانی سن کر اور سادہ طرز بیان جس میں قطعا تصنع اور بناوٹ کا شائبہ نہیں تھا دیکھ کر حیران اور ششدر رہ گیا۔میں نے اس کے ساتھ تفسیر قرآن کریم کے حقائق اور معارف سنے تو دل عش عش کر اٹھا۔کیونکہ تفاسیر میں اس کا عشر عشیر تو در کنار مفسرین تو اس کو چہ سے بالکل بیگانہ دیکھے۔اسی وقت میرے دل نے فیصلہ کیا۔برہان جس کی تلاش میں تم حیران و سرگرداں مارے مارے پھر رہے تھے وہ گو ہر مراد یہی ہے۔جب رات کو سویا تو پھر نفس نے سراٹھایا اور جوش دلایا کہ کل کا دن تو دیکھو۔چنانچہ تیسری دفعہ پھر جب سوال جواب شروع ہوئے اور میرے ترکش میں جس قدر تیر اصول معانی ، منطق ، فلسفه، صرف ونحو وغیرہ علوم کے تھے استعمال کرنے شروع کئے تو حضرت صاحب نے نہایت محبت اور پیاراور سادگی سے فرمایا کہ مولوی صاحب تحقیق حق اور چیز ہے اور ہار جیت کا خیال اور چیز ہے۔بس حضور کا یہ فرمانا تھا کہ میرے نفس نے مجھے نہایت ملامت کی اور میں نے اسی وقت حضور کی