حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 31
34 کندھے والی چادر سے صاف کر دیتے دوسرے ہمرا ہی دوست بھی یہ سعادت حاصل کرنے کی سعی ضرور کرتے مگر مولوی صاحب کی سادگی آپ کی پھرتی کا باعث ہوتی۔مجاہدانہ طرز زندگی (ماہنامہ انصار اللہ ستمبر 1977 ء ص 13-14) آپ نے یہ سارا عرصہ مجاہدانہ طرز پر گزارہ اور آپ کے اہل واولا د نے بھی بڑے صبر اور قربانی سے یہ وقت گزارا۔آپ کے ایک شاگرد مولوی مہر الدین صاحب کو آپ کی تکلیف کا علم ہوا۔تو انہوں نے لالہ موسیٰ سے لکڑیاں بھیجنی شروع کیں کبھی کبھی آپ کو فاقہ کشی کی نوبت آئی جس کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تا کہ آپ کی فاقہ کشی پر کسی دیکھنے والے کو اطلاع نہ ہو۔ان حالات کے باوجود آپ بڑی ہمت اور استقلال کے ساتھ اشاعت دین میں مصروف رہتے۔(ماہنامہ انصار اللہ ستمبر 1977 ء ص 13-14) قدرت کا دیا ہوا فولاد حضرت عبد المغنی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہمارے والد صاحب کے پاس لوہے کی ہنڈیاں رہ گئی تھیں اور جب بھی سالن وغیرہ ان میں پکتا تو لوہے کا اندرونی زنگ سالن کی ساری ہیئت کو تبدیل کر کے رکھ دیتا۔چنانچہ ایک دن میں نے والد صاحب سے پوچھا کہ ابا جان ! یہ جو ہم سالن کھاتے ہیں اس کے ساتھ لوہے کا زنگ بھی ہمارے پیٹوں میں چلا جاتا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ ہم پھر بھی تندرست اور توانا دکھائی دیتے ہیں؟ اس پر مولوی برہان الدین صاحب نے فرمایا کہ بیٹا یہ زنگ نہیں ہے اور نہ ہی اسے میل کہنا چاہئے بلکہ یہ تو قدرت کا دیا ہوا فولاد ہے جو