حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 32 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 32

35 ہمارے لئے طاقت کا سبب ہے اور کمی خون کا علاج بھی ہے۔روٹی عام طور پر نصف بودا ملے ہوئے آٹے کی ہوتی تھی، چونکہ ایندھن خریدنے کی طاقت نہ تھی اس لئے شیشم کے پتے سمیٹ کر گوندھتے اور تجربہ کار آدمی خوب جانتا ہے کہ شیشم کے پتوں پر پکی ہوئی روٹی کیا شکل اختیار کرتی ہے۔توکل علی اللہ (ماہنامہ انصار اللہ تمبر 1977 ء ص 13-14) راجہ پیده خان دارا پوری ہیڈ آف دی جنجوعہ جو احمدیت قبول کرنے کے بعد فوت ہوئے ، حضرت مولوی صاحب کو حسن عقیدت کی وجہ سے گندم بھیجا کرتے تھے۔کسی وجہ سے انہوں نے گندم بھیجنا بند کر دی۔پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ شروع کر دی۔تو مولوی صاحب نے لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا آپ نے اچھا کیا تھا اس سے میرا خدا پر ایمان بڑھ گیا ہے۔پہلے تو جب گندم ختم ہوتی تو خیال آتا کہ راجہ پیدہ خان بھیجے گا لیکن جب آپ نے بند کر دی تو اس وقت سے صرف اور صرف خدا کی طرف خیال جاتا ہے۔پیندہ خان نے بہت منت کی بہت زور دیا اور کہا کہ آگے تو ایک فصل بھیجتا تھا اب دو بھیجوں گا۔پہلے تو گدھوں کا انتظام آپ کی طرف سے تھا اب سب میرا انتظام ہو گا۔آپ گندم لینا منظور فرما دیں اسکے اصرار پر آپ نے منظور فرمالیا۔غرضیکہ باوجود تنگی کے آپ تو کل علی اللہ سے کام لیتے تھے سادہ لباس پہنتے سادہ زندگی آپ کا شعار تھا۔آپ کے علم کا رعب آپ کے ایک شاگردمولوی مہر دین صاحب رفیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ گجرات کا ایک مولوی محمد تھا۔وہ گجرات میں امام مسجد تھا۔اس نے ایک