حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 28
31 66 پڑی۔آپ فرمانے لگئے پا اے مائے پا یعنی اے بڑھیا اور راکھ ڈالو۔“ روایت مستری نظام الدین سیالکوٹی۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد سوم ص 423) او برھانیا ایہ نعمتاں ککھوں!" سیالکوٹ میں ہی ایک دوسرا واقعہ پیش آیا جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس قادیان جانے لگے تو الوداع کہنے کے لئے حضرت مولوی صاحب بھی ساتھ آگئے۔آپ جب اسٹیشن سے واپس آرہے تھے تو جو سلوک حضرت مولوی صاحب کے ساتھ کیا گیا اس کی مثالیں صرف قرونِ اولیٰ میں ہی نظر آتی ہیں۔اس واقعہ کو خلفاء احمدیت نے متعدد دفعہ بیان فرمایا۔اس کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے یوں بیان فرمائی ہے۔” جب لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو چھوڑ کر واپس آرہے تھے تو انہیں لوگوں نے طرح طرح کی تکالیف دینی شروع کیں اور دق کیا۔مولوی برہان الدین صاحب انہی میں سے ایک تھے۔جب وہ واپس جارہے تھے تو کچھ غنڈے ان کے پیچھے ہو گئے۔اور ان پر گند پھینکا دیکھنے والوں نے بعد میں بتایا کہ جب مولوی برہان الدین۔صاحب کو جبڑا پکڑ کر ان کے منہ میں زبر دستی گوبر اور گند ڈالنے لگے تو انہوں نے کہا الحمد للہ ایہ ممتاں کتھوں مسیح موعود نے روز روز آناں وے؟ یعنی الحمد للہ یہ عمتیں انسان کو خوش قسمتی سے ہی ملتی ہیں۔کیا مسیح موعود جیسا انسان روز روز آ سکتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ ایسا موقع ملے۔“ الفضل 10 اکتوبر 1945 ءص2) اس وقت آپ ضعیف العمر تھے اور آپ کی عمر 74 سال کے قریب تھی۔