حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 26
29 پڑھتے رہے۔ان کے جنازے میں قریب تین سو آدمی جمع تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو مغفرت عطاء کرے اور جنت میں بلند مقام عطاء فرمائے۔آمین ثم آمین۔قبل وفات فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود کا جو الہام ہے کہ دو شہتیر 66 ٹوٹ گئے۔سو ایک شہتیر تو مولوی عبد الکریم صاحب تھے اور دوسرا میں ہوں۔“ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد ( اخبار بدر 8 /دسمبر 1905 ء ص 7) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 6 دسمبر 1905ءکو فرمایا کہ ہماری جماعت میں سے اچھے اچھے لوگ مرتے جاتے ہیں۔چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب جو ایک مخلص آدمی تھے اور ایسا ہی اب مولوی برہان الدین صاحب جہلم میں فوت ہو گئے۔اور بھی بہت سے مولوی صاحبان اس جماعت میں فوت ہوئے مگر افسوس کہ جو مرتے ہیں ان کا جانشین ہم کو کوئی نظر نہیں آتا۔تاریخ احمدیت جلد دوم ص 412 ایڈیشن 2007ء) الغرض آپ کی اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی وفات پر قادر الکلام اور خدمت دین کرنے والے علماء پیدا کرنے کے لئے جنوری 1906ء کو مدرسہ احمدیہ کی بنیاد پڑی۔دعا ہے کہ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)