حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 11
14 کو چھوڑ دیا توان کی حیثیت مزدوروں کی سی ہوگئی یٹی کہ ان کے پاس پورے کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے۔مگر اس قدر قربانیوں کے باوجود ان کے دل میں ہمیشہ خلش رہتی تھی کہ ابھی ہم نے کچھ نہیں کیا۔“ نیز فرمایا: الفضل 17 دسمبر 1945 ء ص 5) مولوی برہان الدین صاحب۔۔۔۔۔۔احمدیت سے پہلے وہابیوں کے مشہور عالم تھے اور ان میں انہیں بڑی عزت حاصل تھی۔جب احمدی ہوئے تو باوجود اس کے کہ ان کے گزارہ میں تنگی آگئی۔پھر بھی انہوں نے پرواہ نہ کی اور اسی غربت میں دن گزار دیئے۔بہت ہی مستغنی المزاج انسان تھے۔انہیں دیکھ کر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ بھی کوئی عالم ہیں بلکہ بظاہر انسان یہی سمجھتا تھا کہ یہ کوئی کمی ہیں۔بہت ہی منکسر طبیعت کے تھے۔“ الفضل 25 دسمبر 1935 ء ص 8) آپ کے فرزند حضرت مولوی عبد المغنی صاحب۔۔۔۔کا بیان ہے کہ والد صاحب کی زندگی نہایت تنگی میں گزری۔گھی مہینوں ہمارے گھر میں نہیں آتا تھا۔کبھی کبھار نقدی میسر ہوتی تو تلوں کا تیل گھی کی جگہ استعمال کرتے۔گوشت کہیں سے ہدیہ آجائے تو آجائے ورنہ بازار سے خرید کر پکانا ہماری مالی طاقت سے باہر تھا۔ایندھن ملتا نہیں تھا کہ سالن تیار کیا جاسکے یا روٹی اچھی طرح پکائی جا سکے۔ایک شہتوت کا درخت تھا۔آپ کی اہلیہ اس کے خشک پتے جمع کرتیں۔اس سے نیم پختہ سالن اور روٹی تیار ہوتی۔تنگ دستی کا ذکر کرتے ہوئے آپ کا بیان ہے کہ ان پتوں پر دال و غیرہ کا پانا مشکل تھا۔اس سے کچھی دال کو بھون لیا جا تا اور پھر اسے چکی میں پیس لیا جاتا۔