مودودی شہ پارے — Page 4
بالکل ایک نئے مذہبی فکر School of thought کے علمبردار اور جداگانہ زاویہ نگاہ کے حامل ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے اسلامی حقائق کا مطالعہ خالصہ اپنی ٹینک سے فرمایا ہے۔اور اس کی تفصیلات کا نقشہ ان کی آزاد طبیع کا رہین منت ہے۔چنانچہ مولانا خود تحریر فرماتے ہیں :- اسلام کو جبس صورت میں میں نے اپنے گردوپیش کی مسلم سوسائٹی میں پایا میرے لئے اس میں کوئی کشش نہ تھی۔تنقید و تحقیق کی صلاحیت پیدا ہونے کے بعد پہلا کام جوئیں نے کیا وہ یہی تھا کہ اس بے روح مذہبیت کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا۔جو مجھے میراث میں ملی تھی۔۔۔۔پس در حقیقت میں ایک نو مسلم ہوں۔خوب جانچ کر اور پرکھ کر اس مسلک پر ایمان لایا }