مسیحی انفاس — Page 373
ان کا کسی کتاب کو صحیح کہنا کسی باضابطہ ثبوت پر مبنی ہے۔نری انگلیں اور خیالات ہیں لہذا ان کے یہ بیہودہ خیالات خدا کی کتاب کے معیار نہیں ہو سکتے بلکہ معیار یہ ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کتاب خدا کے قانون قدرت اور قوی معجرات سے اپنا منجانب اللہ ہونا ثابت کرتی ہے یا نہیں۔ہمارے سیتید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین ہزار سے زیادہ معجزات ہوئے اور پیش گوئیوں کاتو شمار نہیں۔مگر ہمیں ضرورت نہیں کہ ان کا گذشته معجزات کو پیش کریں۔بلکہ ایک عظیم الشان معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی وچی منقطع ہو گئی اور منجزات نابود ہو گئے اور ان کی امتت خالی اور تہی دست ہے۔صرف رف قصے ان لوگوں کے ہاتھ میں رہ گئے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی منقطع نہیں ہوئی اور نہ مجربات منقطع ہوئے بلکہ ہمیشہ بذریعہ کاملین امت جو شرف اتباع سے مشرف ہیں ظہور میں آتے ہیں۔اسی وجہ سے مذہب اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اس کا خدا ایک زندہ خدا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی اس شہادت کے پیش کرنے کے لئے یہی بندہ حضرت عزت موجود ہے۔اور اب تک میرے ہاتھ پر ہزار ہانشان تصدیق رسول اللہ اور کتاب اللہ کے بارہ میں ظاہر ہو چکے ہیں۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۸ تا ۳۵۱ ۲۵۳ بے سروپا باتوں کا نام اور یادر ہے کہ عیسائیوں کا یہ بیان کہ انجیل نے قوانین کی باتوں کو انسانوں کی سمجھ پر چھوڑ دیا ہے جائے فخر نہیں بلکہ جائے انفعال اور ندامت ہے۔کیونکہ ہر ایک امرجو قانون کلی اور قواعد مرتبہ منتظمہ کے رنگ میں بیان نہ کیا جائے وہ امر کو کیسا ہی اپنے مفہوم کے رو دین صرف ان چند سے نیک ہو بد استعمالی کے رو سے نہایت بد اور مکروہ ہو جاتا ہے۔اور ہم کئی دفعہ لکھ چکے نہیں جو انجیل میں ہیں کہ انجیل میں کسی قدر اخلاقی تعلیم ہے تو سہی جو توریت اور ظالمود سے لی گئی ہے۔مگر درج ہیں۔بہت بے ٹھکانہ اور بے سروپا ہے۔اور کاش اگر وہ کسی قانون کے نیچے منتظم ہوتی تو کیسی کار آمد ہو سکتی۔مگر اب تو حکیمانہ نظر میں نہایت مکروہ چیز ہے۔اور یہ سار ا نقصان قانون چھوڑنے سے ہے جو انتظام اور ترتیب قواعد کے استعمال سے مراد ہے۔یہ خیال ایک سخت نادانی ہے کہ دین صرف ان چند بے سروپا باتوں کا نام ہے جو انجیل میں درج ہیں۔بلکہ وہ تمام امور جو تحمیل انسانیت کے لئے ضروری ہیں دین میں داخل ہیں۔جو باتیں انسان کو وحشیانہ حالت سے پھیر کر حقیقی انسانیت سکھلاتی یا عام انسانیت سے ترقی