مسیحی انفاس — Page 172
۱۷۲ مصلوب کا رفع الی اللہ نہیں ہوتا تو یہ بچے نبیوں کی عام علامت رکھی گئی تھی اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ صلیبی موت جرائم پیشہ کی موت ہے اور نیچے نبیوں کے لئے یہ پیش گوئی تھی کہ وہ جرائم پیشہ کی موت سے نہیں مریں گے۔اسی لئے حضرت آدم سے لیکر آخر تک کوئی سچا نبی مصلوب نہیں ہوا۔پس اس امر کو رفع جسمانی سے کیا علاقہ تھا۔ورنہ لازم آتا ہے کہ ہر ایک سچانبی معہ جسم عصری آسمان پر گیا ہو۔اور جو جسم عصری کے ساتھ آسمان پر نہ گیا ہوہ جھوٹا ہو۔غرض تمام جھگڑار فع روحانی میں تھا۔جو چھ سو برس تک فیصلہ نہ ہوسکا آخر قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ نے اشارہ فرمایا ہے یا عیسی النی متوفیک و رافعک الی یعنی اے عیسی نہیں مجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف تیر ارفع کروں گا یعنی تو مصلوب نہیں ہو گا۔اس آیت میں یہود کے اس قول کار تو ہے کہ وہ کہتے تھے کہ عیسی مصلوب ہو گیا اس لئے ملعون ہے اور خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا۔اور عیسائی کہتے تھے کہ تین دن لعنتی رہ کر پھر رفع ہوا اور اس آیت نے یہ فیصلہ کیا کہ بعد وفات بلا توقف خدا تعالیٰ کی طرف عیسی کا رفع روحانی ہوا۔کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۶۰ تا ۳۶۲ اصل میں مسیح کے متعلق عیسائیوں اور یہودیوں دونوں نے افراط و تفریط سے کام لیا ہے۔عیسائیوں نے تو یہاں تک افراط کی کہ ایک عاجز انسان کو جو ایک ضعیفہ عورت کے پیٹ سے عام آدمیوں کی طرح پیدا ہوا خدا بنا لیا۔اور پھر گرایا بھی تو یہاں تک کہ اسے میں کے تعلق افراط ملعون بنایا اور ہادیہ میں گرایا یہودیوں نے تفریط کی یہاں تک کہ معاذ اللہ اسے ولد الزنا قرار دیا اور بعض انگریزوں نے بھی تسلیم کر لیا اور سارا الزام حضرت مریم پر لگایا مگر قرآن شریف نے آکر ان دونوں قوموں کی غلطیوں کی اصلاح کی۔عیسائیوں کو بتایا کہ وہ خدا کا وتفريط ۱۴۴ رسول تھا خدا نہ تھا اور وہ ملعون نہ تھا۔حضور ملکہ ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۱۰ معظمہ اپنی روشن عقل کے ساتھ سوچیں کہ کسی کا خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن نام رکھنا جو لعنت کا مفہوم ہے۔کیا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور بھی تو ہین ہوگی ؟ پس جس کو خدا کے تمام فرشتے مقرب مقرب کہہ رہے ہیں۔اور جو خدا کے نور