مسیحی انفاس — Page 80
۸۰ پھر ساتھی بھی نکل آتے ہیں۔اور عورتوں بچوں کی شہادت بھی کافی ہو جاتی ہے۔کچھ کچھ مال بھی برآمد ہو جاتا ہے۔تو پھر اس کو بے حیائی سے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ہاں میں نے چوری کی ہے۔اسی طرح پر عیسائی مذہب کا حال ہوا ہے۔صلیب پر مرنا یسوع کو کاذب ٹھہراتا ہے۔لعنت دل کو گندہ کرتی اور خدا سے قطع تعلق کرتی ہے۔اور اپنا قول کہ یونس کے معجزہ کے سوا اور کوئی معجزہ نہ دیا جاوے گا۔باقی معجزات کو ر ڈ کر تا اور صلیب پر مرنے سے بچنے کو معجزہ ٹھراتا ہے۔عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ انجیل میں کچھ حصہ الحاقی بھی ہے۔یہ ساری باتیں مل ملا کر اس بات کا اچھا خاصہ ذخیرہ ہیں جو یسوع کی خدائی کی دیوار کو جو ریت پر بنائی گئی تھی بالکل خاک سے ملا دیں اور سرینگر میں اس کی قبر نے صلیب کو بالکل توڑ ڈالا۔مرہم عیسی اس کے لئے بطور شاہد ہو گئی۔غرض یہ ساری باتیں جب ایک خوبصورت ترتیب کے ساتھ ایک دانشمند سلیم الفطرت انسان کے سامنے پیش کی جاویں تو اسے صاف اقرار کرنا پڑتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔اس لئے کفارہ جو عیسائیت کا اصل الاصول ہے۔بالکل باطل ہے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۱۷۵،۱۷۴ جو ترقی انہوں نے کرنی تھی وہ کر چکے پورے طور پر انسان کو خدا بنا لیا۔اگر انسان خدا بہت خدال جائیں گے بن سکتا ہے تو پگٹ سے کیوں ناراض ہیں بہت خدا مل جائیں گے تو طاقت زیادہ تو طاقت زیادہ ہوگی۔ہے۔ملفوظات۔جلد ۴ صفحہ ۲۵۵ ۲۵۶ یہ ایسی موٹی بات ہے کہ معمولی عقل کا انسان بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔دیکھو اگر ایک بڑے آدمی کو معمولی اردلی سے مشابہت دی جاوے تو وہ چڑتا ہے یا نہیں ؟ پھر کیا سی کی خدائی خداتعالی کی خدا تعالیٰ میں اتنی بھی غیرت نہیں کہ ایک عاجز انسان کو اس کی الوہیت کے عرش پر بٹھایا غیرت کے خلاف جلوے اور مخلوق تباہ ہو اور وہ انسداد نہ کرے؟ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مسیح نے ہر گز ایسا دعوی نہیں کیا کہ میں خدا ہوں۔اگر وہ ایسا دعوی کرے تو میں جہنم میں ڈال دوں۔ایک مقام پر یہ بھی فرمایا ہے کہ مسیح سے اس کا جواب طلب ہو گا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو۔تو حضرت مسیح اس مقام پر اس سے اپنی برتیت ظاہر کریں