مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 632

مسیحی انفاس — Page 77

واشياء اخرى۔فان منطوق الآية يشهد على انها جميعا منه۔فمت من الندامة ان کی خدائی کا اقرار نہ کرے کیونکہ منطوق آیت کا دلالت کرتا ہے کہ ہر یک چیز جمیعا منہ میں داخل ہے یعنی تمام كنت من المستحيين ، وتفكر وا يا معشر النصارى أليس فيكم رجل من المتفكرين۔ارواح وغیرہ خدا ہی سے نکلے ہیں پس اب ندامت سے ہی مرجا اگر کچھ شرم ہے اور اے نصرانی لوگو! اس میں غور وليس لك ان ترفع في جوابنا الصوت وأن تلاقى من فكرك الموت، فإن مثيل کرو۔کیا تم میں کوئی بھی غور کرنے والا نہیں ہے اور کبھی ممکن نہیں جو تو ہمارا جواب دے سکے اگر چہ اسی فکر میں مر الكاذب كخذروف مدحرج ولا قرار له عند الصادقين۔جائے کیونکہ جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح گردش میں ہوتا ہے اور بچوں کے سامنے اس کو قرار نہیں۔(نور الحق / الجزء الاول، روحانی خزائن مجلد ۸ ص ۱۳۲ الی ۱۳۷) جمنے کیوجو مین مسیح کو جو روح اللہ کہتے ہیں اور عیسائی اس پر ناز کرتے ہیں کہ یہ میسیج کی خصوصیت ہے۔یہ ان کی صریح غلطی ہے۔ان کو معلوم نہیں کہ قرآن شریف میں مسیح پر روح اللہ قرآن مجید میں مسیح کو کیوں بولا گیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے مسیح ابن مریم پر خصوصیت کے ساتھ بہت بڑا احسان کیا ہے جو ان کا تبریہ کیا ہے۔بعض نا پاک فطرت یہودی حضرت مسیح کی ولادت پر بہت ہی ناپاک اور خطر ناک الزام لگاتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ بعض ولد اس قسم کے ہوتے ہیں کہ شیطان ان کی پیدائش میں شریک ہو جاتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح اور حضرت مریم کے دامن کو ان اعتراضوں سے پاک کرنے کے لئے اور اس اعتراض سے بچانے کے لئے جو ولد شیطان کا ہوتا ہے۔قرآن شریف میں روح اللہ کہا۔اس سے خدائی ثابت کرنا حماقت ہے کیونکہ دوسری جگہ حضرت آدم کے لئے نفخت فيه من روحی - بھی تو آیا ہے۔یہ صرف تبریہ ہے۔ملفوظات۔جلد ۴ صفحه ۶۳ حضرت عیسی پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑی بھاری صعوبت اور مشکل کا وقت تھا کیونکہ ان کی اپنی ہی کتاب کے الفاظ بھی ایسے ہی ہیں کہ آخر میں ५८