مسیحی انفاس — Page 68
i ۲۸ ٹھہرے کہ اپنے نطفہ سے بچہ پیدا کر سکیں۔تو یہ دونوں نبی اسرائیلی سلسلہ سے خارج ہو گئے۔اور یہ آئندہ ارادہ الہی کے لئے ایک اشارہ قرار پا گیا کہ وہ نبوت کو دوسرے خاندان میں منتقل کرے گا۔ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کا کوئی بنی اسرائیکی باپ نہیں ہے۔پس وہ بنی اسرائیل میں سے کیونکر ہو سکتا ہے۔لہذا اس کا وجود اسرائیلی سلسلہ کے دائمی نبوت کی نفی کرتا ہے۔ایسا ہی یوحنا یعنی یخنی اپنے ماں باپ کے قولی میں سے نہیں ہے۔سو وہ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ مسیح کے کسی معجزہ یا طرز ولادت میں کوئی ایسا عجوبہ نہیں کہ وہ اس کی خدائی پر دلالت کرے۔اسی امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مسیح کی ولادت کے ذکر کے ذکر کے ساتھ بیجی کی ولادت کا ذکر کر دیا۔تا معلوم ہو کہ جیسا کہ بچی کی خارق عادت ولادت ان کو انسان ہونے سے باہر نہیں لے جاتی۔ایسا ہی مسیح ابن مریم کی ولادت اس کو خدا نہیں بناتی۔یہ تو ظاہر ہے کہ یوحناکی ولادت حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت سے کوئی کم عجیب تر نہیں۔بلکہ حضرت عیسی میں صرف باپ کی طرف میں ایک خارق عادت امر ہے۔اور حضرت بیٹی میں ماں اور باپ دونوں کی طرف میں خارق عادت امر ہے۔اور اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ حضرت بیٹی کی پیدائش کا نشان بہت صاف رہا ہے۔کیونکہ ان کی ماں پر کوئی ناجائز تہمت نہیں لگائی گئی۔اور بوجہ اس کے کہ وہ بانجھ تھی تہمت کا کوئی محل بھی نہیں تھا۔لیکن حضرت مریم پر تہمت لگائی گئی۔اور اس تہمت نے حضرت عیسی کی ولادت کے انجو بہ کو خاک میں ملا دیا۔مگر اس تہمت میں صرف یہودیوں کا قصور نہیں۔بلکہ خود حضرت مریم سے ایک بڑی بھاری غلطی ہوئی جس نے یہود کو تہمت کا موقعہ دیا۔اور وہ یہ کہ جب اس نے اپنے کشف میں فرشتہ کو دیکھا اور فرشتہ نے اس کو حاملہ ہونے کی بشارت دی۔تو مریم نے عمداً اپنے خواب کو چھپایا۔اور کسی کے پاس اس کو ظاہر نہ کیا۔کیونکہ اس کی ماں اور باپ دونوں نے اس کو بیت المقدس کی نذر کیا تھا۔تاوہ ہمیشہ تارکہ رہ کر بیت المقدس کی خدمت میں مشغول رہے اور کبھی خاوند نہ کرے۔اور بتول کا لقب اس کو دیا گیا۔اور اس نے آپ بھی یہی عہد کیا تھا کہ خاوند نہیں کرے گی۔اور بیت المقدس میں رہے گی۔اب اس خواب کے دیکھنے سے اس کو یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر میں لوگوں کے پاس یہ ظاہر کرتی ہوں کہ فرشتہ نے مجھے بشارت دی ہے کہ تیرے لڑکا پیدا ہو گا۔تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ خاوند کرنا