مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 632

مسیحی انفاس — Page 56

۵۶ صفت خلق کیا تھی۔اختارهما العليم الحكيم وترك لفظ يصير و حيا۔فثبت من ههنا ان الله ما اراد میں غور کرو کہ کیوں اس عظیم حکیم نے انھیں دونوں لفظوں کو اختیار کیا اور لفظ یصیر حیا کو چھوڑ دیا سو اس جگہ ثابت ہوا کہ اس جگہ ههنا خلقا حقيقيا كخلقه عز وجل ويؤيده ما جاء في كتب التفسير من بعض خدا تعالیٰ کی مراد حقیقی خلق نہیں ہے اور وہ خالیت مراد نہیں ہے جو اس کی ذات سے مخصوص ہے اور اس کی تائید وہ بیانات کرتے ہیں جو بعض الصحابة ان طير عيسى ما كان يطير الا امام اعين الناس، فإذا غاب سقط على صحابہ سے تفسیروں میں بیان ہوئے ہیں اور وہ یہ کہ عیسانی کاپرنده ای وقت تک پرواز کرتا تھا جب تک کہ وہ لوگوں کی نظروں کے سامنے رہتا الارض ورجع الى اصله كعصا موسی۔وكذلك كان احياء عيسى، فاين الحياة تھا اور جب غائب ہو تا تھاتو گر جاتا تھا اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرتا تھا جیسے عصا موسی کالور عیسای کامردوں کو زندہ کرنا بھی ایسا ہی تھا سو اس الحقيقي؟ فلاجل ذلك اختار الله تعالى في هذا المقام ألفاظ تناسب الاستعارات جگہ حیات حقیقی کہاں ملیت ہوئی سواسی لئے خدا تعالیٰ نے اس مقام پر وہ لفظ اختیار کئے جو استعارات کے مناسب حال تھے ليشير الى الاعجاز الذي بلغ الى حد المجاز۔وذكر مجازا ليبين اعجازا۔فحمله تاکہ اس مجاز کی طرف اشارہ کرے جو اعجاز کی حد تک پہنچا تھا اور مجاز کو اس لئے ذکر کیا کہ تا ان کے معجزہ کو جو خارق عادت تھا بیان فرماوے الجاهلون المستعجلون على الحقيقة وسلكوه مسلك خلق الله من غير تفاوت ، مع پس اس مجاز کو جاہلوں نے حقیقت پر عمل کر دیا اور ایسے مرتبہ میں داخل کیا تو اللہ پیدائش کا مرتبہ ہے انه كان من نفخ المسيح وتأثير روحه من غير مقارنته دعاء۔(كان الإحياء بالنفخ حالانکہ وہ صرف صحیح اور اس کی روح کی تاثیر سے تھا اور اس کے ساتھ کوئی دعا نہیں تھی پھونک سے زندہ کرنا ایسا تھا كالإماتة بالنظر)۔فهلكوا واهلكوا كثيرا من الجاهلين۔جیسے نظر سے مارتا۔سوایسے سمجھنے والے بلاک ہوئے اور بہتوں کو جاہلوں میں سے ہلاک کیا۔والقرآن لا يجعل شريكا في خلق الله احدا ولو في ذباب او بعوضة ، بل يقول انه اور قرآن تو کسی کو خدا کی حالت میں شریک نہیں کرتا اگر چہ ایک سکھی بنانے یا ایک مچھر بنانے میں شراکت ہو بلکہ وہ کہتا ہے واحد ذاتا ،وصفاتا، فاقرأوا القرآن كالمتدبرين فالامر الذي ثبت عقلا ونقلا کہ خدا زانا و صفاتاً واحد لاشریک ہے سو تم قرآن کو ایسا پڑھو جیسا کہ تقدیر کرنے والے پڑھتے ہیں۔سو جو امر عقلاً و عقلماً واستدلالا لا ينكره احد الا الذى ما بقى في رأسه مرة انسانية ولحق بالاخسرين و استدلال ثابت ہو گیا اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا جو ایسے شخص کے جس کے سر میں انسانی دانشمندی کا مادہ نہیں رہا السافلين۔ولا يقول احد كمثل هذه الكلمات الا الذى نسي طريق التوحيد ومال نور زیاں کاروں اور تحت انترکی جانیوالوں کے ساتھ جا ملا۔اور ایسی باتیں کوئی منہ پر نہیں لائے گا مگر وہی جو توحید کی راہ کو بھول گیا۔